مصر میں تیس برس سے نافذ ہنگامی حالت ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مصر میں جمعرات کو اکتیس برس سے عائد ہنگامی حالات کا وہ قانون غیر موثر ہوگیا ہے جس کے تحت ملک کی سکیورٹی فورسز کو مشتبہ افراد کو حراست میں لینے اور ان پر خصوصی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے تقریباً لامحدود اختیارات حاصل تھے۔

جمعرات کی شب بارہ بجے غیر موثر ہونے والی ایمرجنسی انیس سو اکیاسی میں صدر انور سادات کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کے بعد سے مسلسل نافذ تھی۔

ہنگامی حالت کا خاتمہ حسنی مبارک حکومت کے خاتمے میں پیش پیش جمہوریت نواز مظاہرین کا ایک اہم مطالبہ تھا اور حسنی مبارک کی جگہ مصر میں زمامِ اقتدار سنبھالنے والے فوجی حکمرانوں نے اشارے دیے تھے کہ وہ اس قانون کی تجدید نہیں کریں گے۔

تاہم کچھ مصری باشندوں کا خیال ہے کہ اس قانون کی عدم موجودگی میں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی تیاری کرنے والے ان کے ملک میں اختیارات کا خلاء پیدا ہو جائے گا۔

مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل نے ایک بیان میں یقین دہانی کروائی ہے کہ افواج ’ انتقالِ اقتدار تک ملک کے تحفظ کی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں گی‘۔

اس قانون کی مخالفت میں مہم چلانے والے ہشام بہجت کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت بڑی بات ہے‘۔

ان کے مطابق ’یہ ایک انتہائی اہم پیغام ہے۔ ملک کی سکیورٹی فورسز ایسے ماحول میں کام کرتی رہی ہیں جہاں انہیں مستقل بتایا جاتا تھا کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں۔ اب انہیں موجودہ قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی اور ان کے پاس کوئی غیرقانونی اختیارات نہیں رہیں گے‘۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے جمہوری تبدیلی کی سمت میں اہم قدم قرار دیا ہے۔

مصر میں ہنگامی حالت کا قانون سابق صدر حسنی مبارک کے دور کی اہم نشانی تھا جنہوں نے بارہا اسے ختم کرنے کا وعدہ کیا اور پھر اسے پورا نہ کیا۔

انسانی حقوق کے گروپس کے مطابق مصر میں ایسا بھی وقت آیا تھا جب اس قانون کے تحت دس ہزار سے زائد افراد جیلوں میں قید تھے جن میں سے بیشتر وہیں مر کھپ گئے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس وقت بھی مصر کی وزارتِ داخلہ نے اس قانون کے تحت کم از کم اٹھاسی افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔

تاہم مصر میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے خیال میں ہنگامی حالت نافذ رہنی چاہیے تھی۔ قاہرہ کی رہائشی ردا عبدالفتاح نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ فوج کو عبوری دور کے اختتام تک برسرِ اقتدار رہنا چاہیے کیونکہ اگر وہ چلے گئے تو ہر طرف افراتفری ہوگی‘۔

اسی بارے میں