حولہ قتلِ عام بین الاقوامی مداخلت کے لیے کیا گیا، شام

حولہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حولہ قتلِ عام مںی سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

شام کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں حولہ شہر میں ہونے والے قتلِ عام کے لیے باغیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا باغیوں نے بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے کیا ہے۔

تحقیقات کرنے والے حکام نے اس واقعے میں کسی بھی طرح کے حکومتی کردار کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

شام میں سرگرم حزبِ مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج اور حکومت کے حامی ملیشیا نے حولہ شہر میں سو سے زائد افراد کو ہلاک کیا۔ ان میں زیادہ تر بچے تھے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی مبصرین نے شامی حکومت کے اس بیان کو ’سفید جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

سوزین رائس کا کہنا تھا ’اقوامِ متحدہ کے مبصرین کے بیانات سمیت اس بات کے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں کہ اس دن کیا واقعات پیش آئے۔‘

اقوامِ متحدہ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ قتلِ عام کے روز حکومتی فورسز علاقے میں سرگرم تھیں۔

شامی حکومت کی جانب سے قتلِ عام کی تحقیقیات کرنے والے کمیشن کے سربراہ جنرل قاسم جمال سلیمان کا کہنا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں باغیوں نے پانچ حفاظتی چوکیوں پر حملے کے بعد علاقے میں قتلِ عام شروع کیا۔

ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ اس قتلِ عام کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ شام کی حکومت ملک میں فرقہ وارانہ فساد پھیلانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا’حکومتی فورسز اس علاقے میں نہیں گئیں جہاں قتلِ عام ہوا۔ نہ ہی قتلِ عام سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔‘

انہوں نے مزید کہا ’مرنے والے وہ خاندان تھے جنہوں نے حکومت کی مخالفت سے انکار کیا اور وہ مسلح گروہوں کے مخالف تھے۔‘

’ان مسلح گروہوں کا مقصد کسی بھی صورت میں شام میں غیرملکی فوج کی مداخلت کروانا ہے۔‘

حولہ میں ہونے والی ان ہلاکتوں پر دنیا بھر میں مذمت کی گئی اور کئی مغربی ممالک نے شام کے سفیروں کو ملک سے نکال دیا۔

شام میں موجود اقوامِ متحدہ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے بعض بمباری کا نشانہ بنے تاہم زیادہ تر کو قریب سے گولی ماری گئی یا چاقو کا وار کرکے قتل کیا گیا۔ مرنے والوں میں انچاس بچے اور چونتیس خواتین شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس جمعے کے روز منعقد کیا جا رہا ہے جس میں حولہ میں ہوئی ہلاکتوں کی مذمت کی جائے گی۔

شامی حکومت نے نماز جمعہ کے بعد ملک بھر میں ہلاک ہونے والوں کے لیے خصوصی دعاؤں کا انعقاد کیا ہے۔

اسی بارے میں