ایشیا پیسفک میں امریکی موجودگی میں اضافہ

امریکی وزیر دفاع پنیٹا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ ایشیا پیسفک میں اپنی موجودگی میں اضافہ چاہتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ امریکہ سنہ دو ہزار بیس تک اپنے بیشتر جنگی جہازوں کوایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ سنہ دو ہزار بیس تک امریکہ ساٹھ فیصد کے قریب اپنے جنگی بیڑے وہاں تعینات کر دے گا جو ایشیا کے متعلق امریکہ کی نئی حکمت عملی کی جانب واضح اشارہ ہے۔

وزیر دفاع لیون پنیٹا نے سنگاپور میں علاقائی سکیورٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ جنگی جہازوں کی ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے کی جانب منتقلی چین کی طاقت کو کنٹرول کرنے کے لیے نہیں ہے۔

بیجنگ نے علاقے میں امریکہ کی موجودگی میں اضافے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں امریکہ کے صدر براک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ ایشیا اور پیسفک کا علاقہ امریکی سکیورٹی پالیسی کے لیے ’اولین فوقیت ہے۔‘

امریکی صدر کے اس بیان کو چین میں چیلنج کے طور پر لیا گیا تھا کیونکہ چین علاقے میں اہم قوت کے طور پر ابھرنے کے لیے کوشاں ہے۔

لیون پنیٹا نے شینگریلا ڈائیلاگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ فی الحال پچاس پچاس فی صد کے حساب سے بحرالکاہل اور بحراوقیانوس میں تقسیم ہے لیکن نئی امریکی حکمت عملی کے تحت یہ تناسب ساٹھ چالیس ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ منتقل ہونے والے جنگی بیڑوں میں چھ ایئر کرافٹ کیريئر شامل ہیں جن میں بیشتر کروزر، جنگی لڑائی اور تباہی پھیلانے والےجہاز شامل ہیں۔

لیون پنیٹا نے کہا کہ امریکہ علاقے میں اپنے حلیف ممالک کے ساتھ جنگی مشقوں کی تعداد اور ان کےسائز میں اضافہ کرنے کا خواہش مند ہے۔

اسی بارے میں