امن منصوبے کو مزید وقت دیا جائے، روس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے مغربی ممالک کی جانب سے شامی حکومت پر سفارتی دباؤ ڈالنے کی کوششوں کا ساتھ دینے کی مزاحمت کی ہے۔

روسی صدر نے مغربی ممالک پر زور دیا ہے کہ شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبے کو مزید وقت دیا جائے۔

امریکہ اور برطانیہ نے روس سے کہا ہے کہ وہ شام کے شہر حولہ میں گزشتہ ہفتے ایک سو آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد شامی حکومت کی مذمت کرے۔

اس سے پہلے ماسکو نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کونسل کی شام کے بارے میں قرار داد کی مخالفت کی تھی۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعہ کو شام کے شہر حولہ میں شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روسی صدر کا شام سے متعلق حالیہ بیان فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے ہونے والی ملاقات کے بعد آیا ہے جو شام کے بحران کے حوالے سے ماسکو اور پیرس کے درمیان اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد سےمستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ صدر بشار الاسد کی حکومت نے اپنے شہریوں کے خلاف ناقابلِ قبول اور ناقابلِ برداشت اقدامات کیے ہیں اور اب اس بحران کا واحد حل یہ ہے کہ صدر بشارالاسد مستعفی ہو جائیں۔

اس موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے شامی صدر کے اقتدار چھوڑنے کے مطالبے پر کہا کہ ان کے جانے کے بعد وہاں کوئی جرنیل اقتدار پر قابض ہو جائے گا جیسا لیبیا اور عراق میں ہوا۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ شام میں خانہ جنگی جیسی صورتِ حال کو کو روکنے کےلیے اقدامات کرنا بہت ضروری ہے۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ نے جمعہ کو اوسلو میں ایک بیان میں کہا تھا کہ کہ روس کی پالیسی شام میں خانہ جنگی کا باعث بنے گی۔

اسی بارے میں