لبنان: طرابلس میں تشدد، فوج تعینات

شام میں احتجاج کی فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں تقریبا ایک برس سے حکومت مخالف احتجاج جاری ہیں

سنیچر کو شام اور لبنان کے سرحدی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں دس افراد کی ہلاکت کے بعد لبنان کی حکومت نے اپنے ساحلی شہر طرابلس میں فوج تعینات کردی ہے۔

لبنان نے فوج اس وقت تعینات کی جب ملک کے وزیراعظم نجیب مکاتی نے تشدد کو روکنے کی غرض سے جائے وقوع کا دورہ کیا۔

تشدد کے تازہ واقعات ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب ہمسایہ ملک شام کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان متنبہ کر چکے ہیں کہ شام میں جاری تشدد سرحد پار پھیل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں شام میں مسلح العاوعی شیعہ اور سنی گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔

لبنان کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ’طرابلس میں جاری تشدد کو روکنے کے لیے لبنان اور شام کی فوجوں کو بغیر کسی تعصب کے مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔‘

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق طرابلس کی سڑکوں پر فوجی گاڑیاں دیکھی گئی لیکن کسی طرح کی فائرنگ کا واقعہ نہیں پیش آیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ جھڑپیں طرابلس کے سنی اکثریتی ضلع باب التبانہ اور شیعہ اکثریت والے العاوی علاقے جبل محسن میں پیش آئی ہیں۔

طرابلس میں جنگجوؤں کے درمیان وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں لیکن سنیچر کو ہونے والی دس ہلاکتیں کسی بھی ایک دن میں ہوئی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کے مطابق فائرنگ شام میں جاری حکومت مخالف تحریک کے حامی سنی جنگجوؤں اور شامی صدر بشر الاسد کے حامی جنگجو‎ؤں کے درمیان ہوئی ہیں۔

شامی حکومت کے مخالف جنگجو نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ’ہمیں اس لیے نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ ہم شام کے عوام کے ساتھ ہیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا ’شام کے عوام ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہم تمہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے‘۔

واضح رہے کہ شام میں سنی مذہبی پیشواہ شاد المولوی کی شدت پسندی کے الزام میں گرفتاری کے بعد چودہ مئی کو جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شاد المولوی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ انہوں نے شامی پناہ گزینوں کی مدد کی ہے۔

واضح رہے لبنان نے ہزاروں شامی پناہ گزینوں کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی ہے اور شام میں کئی رہنما کئی بار متبنہ کرچکے ہیں کہ شام میں جاری تشدد سرحد پار ممالک تک پھیل سکتا ہے۔

خیال رہے کہ شام کے علاقے حولہ میں بچوں اور عورتوں سمیت ایک سو آٹھ افراد کے قتلِ عام کے بعد مغربی ممالک نے شامی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے احکامات دیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ برس مارچ سے شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے دوران اب تک پندرہ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں