’ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس کلینک کی وجہ سے بہت عزت مل رہی ہے: زین العابدین

زین العابدین کو آج بھی وہ طوفانی رات یاد ہے جب ان کے والد طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے چل بسے۔

بنگلہ دیش کے شمالی میں گاؤں میمن سنگھ میں اس وقت کوئی ہسپتال یا ڈسپنسری نہیں تھی اور قریب ترین ہسپتال بیس کلومیٹر دور تھا۔

تیس سال پہلے ان کے والد کی وفات نے کھیتوں میں کام کرنے والے زین العابدین کی زندگی ہی بدل دی۔

وہ اس دکھ کو برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے تہیہ کیا کہ وہ ڈھاکہ سے سو کلومیٹر شمال میں اپنے آبائی گاؤں تناشادیہ میں بنیادی طبی امداد کا مرکز صرور کھولیں گے تاکہ غریب لوگوں کی جانیں بچ سکیں۔

البتہ وہ پُرعزم تھے تاہم ان کے پاس کوئی سرمایہ نہ تھا چنانچہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ڈھاکہ کو چل دیے۔

اکسٹھ سالہ زین العابدین کہتے ہیں ’جب میں ڈھاکہ پہنچا تو یہ ہمارے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ ہم شہر کی گہما گہمی سے دنگ رہ گئے۔ شروع میں ہمیں نہیں پتا تھا کہ ہم یہاں کیسے رہ پائیں گے۔‘

بہت سے دوسرے مہاجرین کی طرح انہوں نے بھی سائیکل رکشہ چلانا شروع کر دیا۔ شہر کی ٹریفک کا مقابلہ کرنا آسان نہ تھا مگر آہستہ آہستے وہ اس کے ماہر بن گئے۔ زین العابدین نے بیس سال تک رکشہ چلایا۔

ان کی بیوی لال بانو کو بھی ایک مقامی کلینک میں نوکری مل گئی۔ مگر انہوں نے ہمیشہ اپنی بیوی سے ایک بات چھپائے رکھی۔

انہوں نے ایک بینک اکاؤنٹ کھولا اور اس میں اپنے گاؤں میں میڈیکل کلینک کھولنے کے لیے رقم بچانے لگے۔ ان کی بیوی کو اس بارے میں کچھ معلوم نہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زین العابدین نے بیس سال تک رکشہ چلایا

انہوں نے کہا ’کبھی کبھی میری اور میری بیوی کی پیسوں پر لڑائی ہوتی تھی اور مشکل وقت بھی آتے تھے مگر میں کبھی بھی اپنی بچت کو نہیں نکالتا تھا۔‘

جب ان کے پاس چار ہزار ڈالر جمع ہوگئے تو وہ اپنے گاؤں واپس چلے گئے۔

اس بات پر ان کے گاؤں والے بہت حیران تھے۔ عام طور پر جو لوگ شہروں کو چلے جاتے ہیں تو وہ بہتر سہولیات کی وجہ سے وہیں پر رہنا پسند کرتے ہیں۔

مگر زین العابدین لوٹ آئے تھے۔ انہوں نے زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا خریدا۔ انہوں نے اس پر ایک ٹین کی چھت والا گھر بنایا اور پھر باقی جگہ پر کلینک بنانا شروع کر دیا۔

جو پیسے ان کے پاس بچ گئے، اس کی انہوں نے کرسیاں میزیں خرید لیں۔

جب انہوں نے اپنے ساتھی دیہاتیوں کو کلینک کے بارے میں بتایا تو انہوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے زین العابدین کہتے ہیں ’لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے۔ وہ نہیں مانتے تھے کہ ایک رکشہ والا کلینک کھول سکتا ہے۔ یہاں تو ڈاکٹر بھی آنے کو تیار نہ تھے۔‘

زین العابدین نے اپنے کلینک کا نام ممتاز ہسپتال رکھا۔ آغاز میں انہوں نے ایک ابتدائی طبی امداد کے ماہر کو مدد کی درخواست کی۔

جیسے جیسے کلینک کی خبر پھیلنے لگی کلینک میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ یہاں صرف بنیادی مسائل کا حل تھا اور زیادہ شدید بیماروں کو میمن سنگھ کے بڑے ہسپتال بھیج دیا جاتا ہے۔

آج اس کلینک میں تقریباً روزانہ ایک سو مریض آتے ہیں۔ ابتدائی طبی امداد کا ایک مقامی ماہر کلینک میں مریضوں کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ایک ڈاکٹر ہفتے میں ایک بار دورہ کرتا ہے۔

کچھ لوگوں اور کمپنیوں کی مدد سے زین ادویات کی ایک دکان بھی بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو کہ مریضوں کو مفت دوائیاں مہیا کرتی ہے۔

اس کلینک پر چھوٹی موٹی بیماریوں جیسے کہ بخار، نزلہ زکام یا سادہ چوٹوں کا علاج ہوتا ہے۔ اس میں ایک چھوٹا سا زچہ و بچہ وارڈ بھی ہے مگر پیچیدگی والے مریضوں کو فوراً ہسپتال بھیج دیا جاتا ہے۔ کلینک کا عملہ دیہاتی خواتین سے ساتھ ماں اور بچوں کی صحت کے بارے میں بھی اگاہی پیدا کرتا ہے۔

زین العابدین کا کہنا ہے کہ انہیں اس کلینک کی وجہ سے بہت عزت مل رہی ہے۔ عام طور پر رکشہ چلانے والوں کو معاشرے میں زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔

زین العابدین امید کرتے ہیں کہ ایک دن وہ اس کلینک کو حکومت یا نجی فلاحی کارکنوں کی مدد سے ایک مکمل ہسپتال بنا سکیں گے۔