کینیڈا: امیگریشن قانون کے خلاف احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تبدیلی کا اثر صوبے بھر میں مقیم بیس ہزار کے لگ بھگ تارکین وطن خاندانوں پر پڑے گا

کینیڈا کے مغربی صوبے سسکیچوئن کے شہر سسکاٹون میں پاکستانیوں سمیت سینکڑوں جنوبی ایشیائی نژاد شہریوں نے نئے امیگریشن قانون کے خلاف اجتجاجی جلسہ کیا ہے۔

اس پرامن اجتجاجی جلسے میں حکومت سے امیگریشن قوانین میں بغیر کسی نوٹس کے کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں پر از سر نو غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ صوبائی حکومت نے حال ہی میں علان کیا ہے کہ اس برس یکم مئی کے بعد سے اس صوبے کے رہائشی ایک وقت میں صرف ایک ہی رشتہ دار یا عزیز کو سپانسر کر کے کینیڈا کی مستقل سکونت دلوا سکتے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت نئے آنے والوں کے لیے کینیڈا آنے سے قبل نوکری کی پیشکش کے ساتھ ساتھ کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم بھی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس قانون کے تحت حکومت کی طرف سے مقرر کردہ شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد بھی اس صوبے کی سکونت اختیار کر کے کینیڈا کے مستقل رہائشی بن سکتے ہیں۔

مقامی صحافی محسن عباس کے مطابق اس قانون میں تبدیلی کا اثر صوبے بھر میں مقیم بیس ہزار کے لگ بھگ تارکین وطن خاندانوں پر پڑے گا جن کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت سمیت کئی دوسرے ممالک سے ہے۔

یہ وہ افراد ہیں جو تیس اپریل سنہ دو ہزار بارہ سے کچھ عرصہ قبل ہی سسکیچوئن صوبے میں آباد ہوئے تھے۔احتجاجی جلسے میں شریک بعض متاثرین نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اعزاء و اقرباء کو بلانے کے لیے دوسرے صوبوں میں اپنے کاروبار بند کر کے اس صوبے میں سکونت اختیار کی تھی۔

ان افراد نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حالیہ فیصلے پر دوبارہ غور کرتے ہونے تارکین وطن کو اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو کینیڈا بلانے کے لیے مدت میں توسیع کرے تا کہ ہر وہ شخص جو یکم مئی دو ہزار بارہ سے پہلے اس صوبے میں رہائش پذیر تھا وہ پرانے قانون کے مطابق اپنے عزیزوں یا رشتہ داروں کو سپانسر کر سکے ۔

خیال رہے کہ ہزاروں تارکینِ وطن نے اس قانون سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس صوبے میں رہائش اختیار کی تھی۔ اس قانون کا آغاز سن دو ہزار چھ میں ہوا جس کے مطابق امیگریشن قوانین میں نرمی کی وجہ سے کوئی بھی شہری یا ملک میں مستقل رہائش پذیر شخص اپنے ایک سے زائد عزیز یا رشتہ داروں کو کینیڈا کی مستقل سکونت کےلیے سپانسر کر سکتا تھا۔

اجتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ’کولیشن فار فیئر سسکیچوئن امیگریشن نومینی پروگرام‘ کے ترجمان نور چودھری نے کہا کہ ان تبدیلیوں کی وجہ سے کئی خاندان دوسرے صوبوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو جائیں گے جو کہ اس صوبے کی تیز رفتار ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان تبدیلیوں کی وجہ سے صوبے کی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔

متاثرین نے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر صوبائی حکومت کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان بھی کیا۔

اس اجتجاجی جلسے میں سسکیچوئن امیگریشن نومینی پروگرام کے ڈائریکٹر کرک ویسٹ گارڈ نے بھی شرکت کی اور لوگوں کے مطالبات قلمبند کیے۔

متاثرین سے بات چیت کرتے ہونے انھوں نے کہا کہ ’صوبائی حکومت کی اس پروگرام میں بڑی دلچسپی ہے اور حال ہی میں بننے والے وزیر امیگریشن لوگوں سے ملیں گے اور میں آپ کہ پیغام وزیر امیگریشن تک پہچاؤں گا‘۔

اس موقع پر وینکوور سے آنے والے امیگریشن کے ماہر وقار حسن نے کہا کہ ’چند لوگوں نے اس قانون کا ناجائز فائدہ اٹھایا جس کہ خمیازہ ہزاروں خاندان بھگت رہے ہیں تاہم ابھی بھی بہت سے ایسے قانونی راستے موجود ہیں جس کے تحت لوگ اپنے عزیزں و رشتہ داروں کو بلا سکتے ہیں‘۔

یاد رہے کہ سسکیچوئن صوبے کی آبادی سن دو ہزار چھ سے قبل ایک ملین سے بھی کم تھی جو اس وقت امیگریشن قوانین میں کی جانے والی نرمی کے بعد تیزی سے بڑھی۔

سخت سردی کے موسم میں اس صوبے کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری تک چلا جاتا ہے۔ قریباً چھ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے والے اس صوبے میں کاشتکاری کے ساتھ ساتھ معدنیات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

گندم کی پیداوار کے لیے یہ صوبہ دنیا بھر میں مشہور ہے اور یہاں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے حالیہ سالوں میں کاشتکاری شروع کی ہے۔