حقانی نیٹ ورک پر صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے: لیون پنیٹا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جب تک پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں افغانستان میں امن کا قیام مشکل ہے: لیون پنیٹا

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے واشنگٹن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

جمعرات کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے غیر اعلانیہ دورے کے موقع پر لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ اسلام آباد حقانی نیٹ ورک کے خلاف ہر صورت میں کارروائی کرے۔

امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق حقانی نیٹ ورک افغانستان میں موجود نیٹو افواج پر حملے کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پنیٹا افغانستان کے جنوب میں ہونے والے خود کش دھماکے کے ایک روز بعد کابل پہنچے ہیں جہاں وہ حکام سے نیٹو افواج کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

لیون پنیٹا نے افغان وزیرِ دفاع سے ملاقات کے بعد کہا کہ پاکستان کے بارے میں ’ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔‘

امریکی وزیر دفاع کے مطابق جب تک پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں تب تک افغانستان میں امن کا قیام بہت مشکل ہے۔

لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے امریکہ کو بہت تشویش ہے اور پاکستان کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اس حوالے سے اقدامات کرے۔

دوسری جانب پاکستان نے شدت پسندوں کو اپنی سر زمین سے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع نے حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے خلاف کارروائی کا ذمہ دار قرار دیا۔

حقانی نیٹ ورک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے شمال مغرب قبائلی علاقے میں موجود ہے اور اس پر افغانستان کی سرزمین پر نیٹو افواج کے خلاف ہونے والے حالیہ حملوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں بدھ کو نیٹو کے قندھار میں قائم ایک بیس پر ہونے والے خود کش حملے میں بیس شہری ہلاک ہو گئے تھے جبکہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان صوبے لوگار میں نیٹو کے ایک فضائی حملے میں اٹھارہ شہری ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں گزشتہ سال مئی میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں