فرانس میں’سوشلسٹ آ جائیں گے‘

فرانس میں سوشلسٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption تجزیوں کے مطابق صدر اولاند کو اپنی اصلاحات نافذ کرنے کے لیے ضروری طاقت مِل جائے گی

فرانس میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد تجزیوں کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے انتخاب میں صدر فرانسوا اولاند کی سوشلسٹ پارٹی اور اس کے اتحادی کامیابی حاصل کر لیں گے۔ فرانس میں سترہ جون کو دوسرے مرحلے کی فیصلہ کن ووٹنگ ہو گی۔

ان تجزیوں کے مطابق سوشلسٹ جماعت اور دائیں بازو کی جماعت یو ایم پی دونوں کو پینتیس فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہے لیکن گرین پارٹی کی حمایت کے بعد ووٹنگ میں سوشلسٹوں کا حِصّہ چالیس فیصد ہو جائے گا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق بائیں بازو کی جماعتوں کو پانچ سو ستتر ارکان کی اسمبلی میں کم سے کم دو سو نواسی ملیں گی اور یہ تعداد تین سو اڑسٹھ بھی ہو سکتی ہے۔

پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کرسچن فریزر نے متنبہ کیا کہ یہ محض پیشینگوئیاں ہیں اور نتائج کا بالکل درست اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کئی انتخابی حلقوں میں شاید دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کی بھی ضرورت پڑے۔

صدر اولاند کو جن کی جماعت کو سینیٹ میں پہلے ہی اکثریت حاصل ہے اب معلوم ہوتا ہے کہ ایوان زیریں میں بھی ان کو اکثریت مل جائے گی اور اس طرح ان کو اپنے اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل درآمد کروانے کے لیے ضروری طاقت مِل جائے گی۔

فرانس میں کسی بھی امیدوار کو کامیاب ہونے کے لیے ووٹوں کی واضح اکثریت حاصل کرنے کے علاوہ حلقے کے کُل ووٹروں کی پچیس فیصد کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں اس حلقے میں دوبارہ انتخاب ہوتا ہے۔

اسی بارے میں