’شام اب خانہ جنگی کی حالت میں ہے‘

شام تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں پر فائرنگ کی گئی

اقوامِ متحدہ کے امن قائم کرنے والے مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شام اب خانہ جنگی کی حالت میں ہے اور حکومت شہروں کے بڑے علاقوں پر کنٹرول کھو چکی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جب اقوامِ متحدہ کے کسی اعلٰی اہلکار نے رسمی طور پر اس طرح کے خیال کا اظہار کیا ہے۔

شام: حملوں کی شدت پر اقوام متحدہ کی تشویش

اقوام متحدہ کے اہلکار ہروی لیڈسوس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب شام میں اقوامِ متحدہ کے معائنہ کے کاروں پر فائرنگ کی گئی۔

دریں اثناء امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے روس پر شام کی حکومت کو ہیلی کاپٹر مہیا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کا یہ اقدام اس لڑائی میں ’ڈرامائی‘ شدت پیدا کر سکتا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ شام کو دی جانے والی اسلحہ کی اس کی کھیپ کا شام میں جاری لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب وہ حیفا شہر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے تو ہجوم نے ان پر پتھراؤ کیا اور جب وہ واپس جا رہے تھے تو ان کی کاروں پر فائرنگ کی گئی۔

دوسری جانب شام میں حزب اختلاف کے کارکنوں کے مطابق بظاہر ملک کے تمام علاقوں سے لڑائی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق منگل کو تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس سے پہلے منگل کو اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ شام میں جاری تشدد خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے لہذٰا بین الاقوامی برادری اقوامِ متحدہ کے امن منصوبے پر عملدرآمد کروانے کے لیے کوششیں تیز کرے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان کے ترجمان کا کہنا کے کوفی عنان چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے ایک اجلاس جلد منعقد کیا جائے تاہم اس میں صرف ایک حل زیرِ غور ہو اور وہ ہے ’امن منصوبے پر عملدرآمد‘۔

اس امن منصوبے پر اپریل میں اتفاق کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد سے تشدد کے واقعات میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی ۔

اسی بارے میں