تیو نس میں فسادات کے بعد کرفیو

تیونس تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت نے ان حملوں کے لیے قدامت پسند اسلامی گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے

تیونس نے فسادات بھڑکنے پر دارالحکومت سمت آٹھ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

یہ ہنگامے آرٹس کی ایک نمائش کے بعد بھڑکے اور کئی مقامات پر پُر تشدد حملے کیے گئے۔

حکومت نے ان حملوں کے لیے قدامت پسند اسلامی گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جوصلفی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ان حملوں میں پولیس سٹیشنوں کو آگ لگائی گئی ، ایک عدالت اور آرٹ گیلری پر بھی حملہ ہوا ہے۔

تاہم صلفی گروپ نے حملوں سے متعلق ان الزامات کی تردید کی ہے۔

تیونس کے ایک علاقے لامصرہ میں پینٹنگز کی ایک نمائش پر حملہ کیا گیا جہاں لگی کچھ تصاویر کو غیر اسلامی قرار دیا گیا۔

ملک کے وزیرِ قانون نورالدین بھیری کا کہنا ہے کہ ’حملے کے ذمہ دار لوگوں کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی‘۔

تیونس کے ریڈیو پر جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’یہ دہشت گرد گروپ ہیں جو قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور معاشرے میں ان کو کوئی حمایت حاصل نہیں ہے‘۔

وزارت کے مطابق اس سلسلے میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

اسی بارے میں