برما: سوچی سوئس پارلیمان کا دورہ کریں گی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

برما کی جمہوریت نواز رہنما آنگ سانگ سوچی اپنے یورپ کے دورے کے دوسرے دن سوئس پارلیمان کا دورہ کریں گی۔

واضح رہے کہ آنگ سانگ سوچی نے جمعرات کو سوئس حکام کے ہمراہ ضیافت میں شرکت کرنی تھی تاہم انہوں نے بیماری کی وجہ سے پریس کانفرنس کے بعد آرام کرنے کو ترجیح دی۔

اس سے پہلے آنگ سانگ سوچی نے یورپی ممالک سے برما میں جمہوریت کی حمایت جاری رکھنے کی درخواست کی۔

برما کی جمہوریت نواز رہنما سنہ انہیں سو اٹھاسی کے بعد یورپ کا پہلا دورہ کر رہی ہیں۔

آنگ سانگ سوچی سنیچر کو اوسلو میں نوبل امن انعام وصول کریں گی۔

جنیوا میں موجود بی بی سے کے نامہ نگار کے مطابق آنگ سانگ سوچی بدھ کی رات گئے برما سے جنیوا پنہچیں۔

نامہ نگار کے مطابق آنگ سانگ سوچی کی صحت کے حوالے سے تشویش اس وقت ظاہر ہوئی جب انہیں بیماری کی وجہ سے برن میں ہونے والی پریس کانفرنس کو مختصر کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ آنگ سانگ سوچی کو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان کے گھر نظر بند رکھا گیا اور سنہ دو ہزار دس کے آخر میں انہیں رہا کیا گیا۔

برما میں حالیہ اصلاحات کے بعد دو ماہ پہلے آنگ سانگ سوچی پارلیمان کی رکن منتخب ہوئی تھیں۔

چھیاسٹھ سالہ آنگ سانگ سوچی نے سنہ دو ہزار دس میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بعد اپنی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کروایا۔

برما کی فوجی حکومت نے گزشتہ انتخابات کے دوران آنگ سانگ سانچی پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی تھی جس کی وجہ سے ان کی جماعت نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

سنہ دو ہزار دس میں میں برما میں بیس سال بعد انتخابات ہوئے تھے لیکن سوچی کی پارٹی اس میں حصہ نہیں لے سکی تھی۔ ملک میں بعض ایسے قوانین تھے جس کے تحت سوچی کی پارٹی انتخابات سے دور رہی تھی۔

برما کی حکومت نے حال ہی میں قوانین میں بعض تبدیلی کر کے سوچی کی پارٹی پر عائد پابندی کو ہٹا دیا تھا۔

سنہ انیس سو نوے میں سوچی کی پارٹی نے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور بھاری اکثریت سے فتح حاصل کی تھی لیکن اس وقت کی حکومت نے ان نتائج کو قبول نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان کی جماعت کو اقتدار سنبھالنے دیا تھا۔

اسی بارے میں