برما: ساٹھ برس بعد کوکا کولا کی واپسی

کوکا کولا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برما میں سیاسی اصلاحات کے بعد امریکہ نے برما میں سرمایہ کاری پر عائد پابندی ہٹا لی ہے

امریکہ کے اس فیصلے کے بعد کہ وہ برما میں سرمایہ کاری سے متعلق پابندیاں ہٹا رہا ہے، سافٹ ڈرنک کوکا کولا ساٹھ برس بعد برما میں واپسی کر رہی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ برما میں جمہوریت کا عمل شروع ہونے کے بعد وہ سرمایہ کاری سے متعلق پابندی ہٹا لی جائے گی۔

دوسری جانب کوکا کولا کا کہنا ہے جیسے ہی امریکی حکومت اسے برما میں کام کرنے کا لائسنس دے گی وہ وہاں اپنا کاروبار شروع کر دیں گے۔

برما دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں کوکا کولا کاروبار نہیں کرتا ہے۔

برما کے علاوہ کوکا کولا نے کیوبا میں مسلح تحریک کے بعد وہاں اپنا کاروبار ختم کر دیا تھا جبکہ کوکا کولا نے شمالی کوریا میں بھی کبھی کاروبار نہیں کیا۔

کوکا کولا کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برما میں کاروبار شروع کرنے کے لیے شروع میں وہ برما کے پڑوسی ممالک سے کوکا کولا ڈرنکس اور دیگر پروڈکٹس درآمد کرے گا۔

واضح رہے کہ جمعرات کوامریکہ نے برما میں ہونے والی سیاسی اصلاحات کے بعد وہاں سرمایہ کاری پر عائد پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے بائیس سال کے بعد وہاں اپنے ایک سفیر کی تقرری کی ہے۔

برما میں سنہ دو ہزار دس میں فوج کی حمایت یافتہ سویلین حکومت قائم ہوئی تھی اور حال میں ہی تاریخی ضمنی انتخابات ہوئے جس میں جمہوریت حامی رہنما آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیمو کریسی نے حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔

برما کی سویلین حکومت پر فوجی کنٹرول اب بھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوا اور ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

اسی بارے میں