نیٹو سپلائی: ماہانہ کروڑوں ڈالر کا اضافی خرچ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان نے نیٹو کے لیے اپنے راستے بند کررکھے ہیں

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ پاکستان کے انکار کے بعد امریکہ کو افغانستان میں تعینات نیٹو کی فوجوں کے لیے متبادل راستوں سے رسد کی فراہمی پر دس کروڑ ڈالر ماہانہ اضافی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔

پچھلے سال نومبر میں سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے میں چوبیس پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے نیٹو کے لیے اپنے راستے بند کر رکھے ہیں اور امریکہ کو سامان رسد کی فراہمی کے لیے روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کا متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا ہے جو امریکی حکام کے اندازوں کے مطابق ڈھائی گنا زیادہ مہنگا ہے جبکہ ہوائی جہازوں کے ذریعے سامان کی نقل و حمل اس سے بھی زیادہ مہنگی پڑتی ہے۔

امریکہ نے چند دن پہلے ہی اس معاملے پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی اپنی ٹیم اسلام آباد سے واپس بلا لی ہے۔

امریکی حکام کہتے ہیں کہ رسد کی بحالی کے نئے معاہدے کے لیے زیادہ تر معاملات طے پاگئے ہیں لیکن پاکستان سلالہ پر ہوئے حملے پر امریکی معافی کے بغیر اس معاہدے کو حتمی شکل دینے پر تیار نہیں ہے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق مسٹر پنیٹا نے سینیٹ کی بجٹ سے متعلق کمیٹی کو بتایا کہ محض معافی کا ہی معاملہ نہیں جس پر غور ہو رہا ہے بلکہ کچھ اور معاملات بھی ہیں جن کا حل ضروری ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ سفارش کریں گے کہ پاکستان کی امداد روک دی جائے تو ان کا جواب تھا کہ وہ مکمل بندش کے بجائے امداد کو ان اقدامات سے مشروط کرنے کی سفارش کریں گے جن کا امریکہ پاکستان سے طلبگار ہے۔

افغانستان میں جمعرات کو ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی ہو رہی ہے جس میں سن 2014 میں غیر ملکی افواج کے چلے جانے کے بعد کے افغانستان کے مستقبل پر غور ہوگا۔

کانفرنس میں امریکہ، پاکستان، بھارت، چین، روس اور ترکی سمیت لگ بھگ تیس ملکوں کے وزرائے خارجہ شریک ہورہے ہیں۔

اسی بارے میں