’شام میں قیامِ امن کے امکانات معدوم‘

تصویر کے کاپی رائٹ s
Image caption ’شام میں بڑھتے تشدد سے نگران مشن کی کارکردگی محدود ہوگئی ہے‘

شام میں اقوامِ متحدہ کے نگران مشن کے سربراہ کا کہنا ہے فریقین ملک میں پرامن سیاسی تبدیلی کے لیے’بظاہر آمادہ‘ نظر نہیں آتے۔

میجر جنرل رابرٹ موڈ کا کہنا ہے کہ شام میں گزشتہ دس دن کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ہے جس سے نہ صرف حکومت اور حزبِ اختلاف کا نقصان ہوا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کے غیر مسلح مبصرین کو بھی ’خطرات‘ کا سامنا ہے۔

ناروے سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل موڈ نے جمعہ کو دمشق میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انتیس اپریل کو شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصرین کی آمد کے بعد تشدد میں وقفہ آیا تھا لیکن گزشتہ دس دن کے دوران ملک میں پرتشدد واقعات میں تیزی آئی ہے اور جہاں تشدد میں کمی میں حکومت اور باغیوں دونوں کا ہاتھ تھا وہیں اس میں حالیہ اضافے کے لیے بھی فریقین ذمہ دار ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شامی عوام اور شہری مشکلات کا شکار ہیں اور وہ ملک کے مختلف علاقوں میں جاری آپریشنز کی وجہ سے پھنس کر رہ گئے ہیں۔

میجر جنرل موڈ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا نگراں مشن شام میں حقیقت پر مبنی وہ آواز ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ شامی عوام کی تکالیف اور مشکلات کو نہ صرف پہچانا جائے بلکہ انہیں دور کرنے کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں۔

انہوں نے ملک میں بڑھتے تشدد کو مشن کی کارکردگی محدود کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ اس سے واقعات کی تصدیق اور انہیں رپورٹ کرنے کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔

ادھر روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ان کا ملک شام میں صدر بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی کی صورت میں ملک کے مستقبل کے بارے میں بات چیت میں شامل رہا ہے۔

ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران روسی وزیرِ خارجہ نے کہا ’میں نے امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ سے منسوب خبر پڑھی ہے جس میں اطلاعات کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ اور روس بشار الاسد کے چلے جانے کے بعد شام کے سیاست کے خدوخال پر بات چیت کر رہے ہیں۔‘

’اگر ایسا کہا گیا ہے تو یہ سچ نہیں ہے۔ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے کیونکہ شامی عوام کے بارے میں فیصلہ کرنا ہماری موجودہ پوزیشن سے بالکل متصادم ہے۔‘

اسی بارے میں