سعودی عرب کے ولی عہد انتقال کرگئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہزادہ نائف کو اکتوبر دو ہزار گیارہ میں سابق ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبد العزیز کے انتقال کے بعد ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔

سعودی ریاستی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز السعود انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی وفات بیرونِ ملک ہوئی۔

شہزادہ نائف جو کہ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کے عہدے بھی سنبھالے ہوئے تھے، گزشتہ ماہ چھٹیوں اور طبی معائنے کے لیے بیرونِ ملک گئے تھے۔ شہزادہ نائف کی عمر ستتر یا اٹھتہر برس تھی۔

سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی ای کے مطابق سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبداللہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ نائف کا سعودی عرب سے باہر آج انتقال ہوگیا ہے اور ان کی نماز جنازہ مکہ میں اتوار کو نماز مغرب کےبعد ادا کی جائے گی۔ بیان میں اس کے علاوہ ان کے انتقال سے متعلق کوئی تفصیلات نہیں دی گئیں۔

تین جون کو دیے گئے بیان میں نائب وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ شہزادہ نائف کی صحت اطمینان بخش ہے اور وہ جلد ملک واپس آجائیں گے۔

شہزادہ نائف کی وفات کے بعد توقع ہے کہ ان کے چھہتر سالہ بھائی شہزادہ سلمان کو ولی عہد مقرر کیا جائے گا۔

شہزادہ نائف کو اکتوبر دو ہزار گیارہ میں سابق ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبد العزیز کے انتقال کے بعد ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں بادشاہت ابھی بھی سابق بادشاہ عبد العزیز ابن السعود کے بیٹوں کے پاس ہی ہے۔ بادشاہ عبد العزیز ابن السعود سعودی عرب کی جدید ریاست کے بانی مانے جاتے ہیں۔ شہزادہ نائف، شاہ عبداللہ اور سلمان سعودی عرب کے بانی عبد العزیز ابن سعود کے قریب چالیس بیٹوں میں شامل ہیں۔

توقعات ہیں کہ سعودی عرب کی روایت کے مطابق شہزادہ نائف کے چھوٹے بھائی چھہتر سالہ شہزادہ سلمان کو ولی عہد بنایا جائے گا۔

شہزادہ سلطان کو گزشتہ برس نومبر میں ملک کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ تقریباً پانچ دہائیوں تک ریاض کے گورنر کے عہدے پر فائز تھے۔

ولی عہد کا انتخاب آلِ سعود پر مشتمل ایک کونسل کرتی ہے جن میں شاہ عبد العزیز کے فرزندان شامل ہیں۔

اسی بارے میں