مصر:’انتقالِ اقتدار کے وعدے پر قائم ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ i
Image caption نامہ نگاروں کے مطابق فوجی کونسل کے حالیہ فیصلوں سے ان خدشات کو بھی ہوا ملی ہے کہ کونسل طاقت کا مرکز بننا چاہتی ہے

مصر کی حکمران فوجی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ ماہِ رواں کے اختتام تک ملک کا اقتدار نئے صدر کو سونپنے کے وعدے پر قائم ہے۔

کونسل کی جانب سے یہ اعلان اس اعلامیے کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے جس میں بظاہر کونسل کو ملک میں قانون سازی اور اس کے بجٹ کے حوالے سے تمام اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔

’پارلیمان کو تحلیل کیا جانا غیر قانونی ہے‘

مصر کے سرکاری میڈیا کے مطابق فوجی کونسل کے رکن لیفٹیننٹ محمد الایثار نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ انتقالِ اقتدار کی تقریب جون کے آخر میں منعقد کی جائے گی جس میں تمام اختیارات نئے صدر کو منتقل کر دیے جائیں گے۔

فوجی کونسل کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عوام صدارتی انتخاب کے نتائج کی منتظر ہے جبکہ مصر میں اپوزیشن گروپوں نے اس اعلامیے کو فوجی بغاوت قرار دیا ہے۔

کونسل کے اس فیصلے سے ان خدشات کو بھی ہوا ملی ہے کہ کونسل طاقت کا مرکز بننا چاہتی ہے اور ان جمہوری تبدیلیوں کے خلاف ہے جن کا مطالبہ گزشتہ برس عوامی مظاہروں کے دوران کیا گیا تھا۔

مصر کے صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان اکیس جون کو متوقع ہے تاہم اسلام پسند تنظیم اخوان المسلمین نے اپنے امیدوار محمد مرسی کی فتح کا دعویٰ کیا ہے۔ مرسی کے حریف اور سابق وزیراعظم احمد شفیق نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

فوجی کونسل’سپریم کونسل آف آرمڈ فورسز‘ کی جانب سے جاری کردہ اس اعلامیے کے متن کے مطابق ملک میں پارلیمانی انتخابات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نیا مستقل آئین تشکیل نہیں پاتا۔ فوجی کونسل کے اعلان سے مبینہ طور پر اسے قانون سازی پر کنٹرول بھی حاصل ہو گا۔

فوجی کونسل کی جانب سے اعلامیہ اتوار کو صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ ختم ہونے سے چند گھنٹے بعد جاری کیا گیا اور اس کی مکمل تفصیل پیر کی دوپہر جاری کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اخوان المسلمین نے اپنے امیدوار محمد مرسی کی فتح کا دعویٰ کیا ہے

مصر میں ایک نمایاں سیاسی رہنما محمد البرادعی نے فوجی کونسل کے اعلان کو’ جمہوریت کے لیے سنگین نقصان‘ قرار دیا ہے۔

مصر میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق تاحال اس حوالے سے کوئی بڑا مطاہرہ نہیں کیا گیا ہے اس لیے فوج یہ خیال کر رہی ہے کہ عوام شاید مظاہروں سے تھک چکے ہیں اور اب استحکام کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔ تاہم فوج کے اس اعلامیے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔

اسی دوران مصر کی اسلامی جماعت اخوان المسلمین نے اعلان کیا ہے کہ صدارتی انتخاب میں ان کے امیدوار محمد مرسی جیت گئے ہیں۔ اخوان المسلمین کے مطابق محمد مرسی کو اپنے مدمقابل امیدوار اور حسنی مبارک دور کے وزیراعظم احمد شفیق پر برتری حاصل ہے۔

اخوان المسلمین کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق’ محمد مرسی جمہوریہ کے پہلے مصری صدر ہیں جنہیں عوام نے منتخب کیا ہے۔‘

صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان رواں ہفتے کے اختتام پر کیا جائے گا اور ابھی سرکاری طور پر کسی امیدوار کو برتری حاصل ہونے یا جیت کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد منعقد ہونے والے پہلے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں اتوار کو آخری اور حتمی دن ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔

یہ الیکشن ایک ایسے موقع پر ہوئے جب ملک کی حکمران فوجی کونسل نے ایک عدالتی فیصلے کے بعد سنیچر کو مصری پارلیمان کو تحلیل کر دیا تھا۔ کونسل نے یہ قدم اعلٰی ترین آئینی عدالت کے اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اٹھایا جس میں سنہ 2011 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

اسلامی جماعت اخوان المسلمین نے پارلیمان کی تحلیل کے فیصلے کو غیر قانونی اور جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے انقلاب کا تحفظ کریں۔

ان پارلیمانی انتخابات میں اخوان المسلمین کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے ایوان میں تقریباً پچاس فیصد نشستیں حاصل کی تھیں۔

اسی بارے میں