مصر: عوام کے لیے غیر یقینی کا عالم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر کا مستقبل غیر یقینی لگتا ہے۔

مصر میں سویلین اقتدار کی جانب تبدیلی کا ایک اور مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ ملک بھر میں صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ مکمل کر لی گئی ہے تاہم عوام میں ان مراحل سے تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا تاثر پایا جاتا ہے۔

صدارتی انتخاب کے دوسرے روز پولنگ مراکز میں زیادہ تر خاموشی چھائی رہی۔ اس کی وجہ شاید شدید گرمی تھی یا شاید مصری عوام میں بڑھتا ہوا غم و غصّہ۔

مصری عوام میں کچھ لوگ یہ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ ان سے اسلامی رہنماء محمد مرسی اور سابقہ حکومت کا حصہ رہنے والے احمد شفیق میں سے خود اپنا سربراہ چننے کا حقیقی حق چھین لیا گیا ہے۔

قاہرہ میں دن کے وقت شدید گرمی رہی جس کی وجہ سے لوگ پولنگ سٹیشنز کا رخ نہیں پائے تاہم شام کو موسم بہتر ہوتے ہی پولنگ کا وقت بڑھا دیا گیا جس کے بعد لوگوں نے ووٹ ڈالنے کے لیے آنا شروع کر دیا۔

ایک ووٹر باون سالہ حامدی نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ انہیں اپنے ملک سے پیار ہے مگر وہ گزشتہ تیس برسوں کے حالات سے تنگ آ چکے ہیں۔

دوہا میں بروکنگز انسٹیٹیوٹ میں شعبہء تحقیق کے ڈائریکٹر شادی حامد کا کہنا تھا کہ مصری عوام ووٹ ڈال ڈال کر تھک چکے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں مصر میں انتیس روز ووٹنگ جاری رہی ہے۔ شادی حامد کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود مصری عوام نے روز مرہ زندگی میں کوئی ٹھوس بہتری نہیں دیکھی۔

گزشتہ ہفتے پہلی آزادانہ طور پر منتخب پارلیمان کو تحلیل کیے جانے کے بعد بہت سے افراد یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ان کے ووٹ ڈالنے کا کوئی حقیقی فائدہ بھی ہے یا نہیں۔

ان انتخاب کے بعد تو معلوم ہوتا ہے کہ مارچ دو ہزار گیارہ میں کیے جانے والا آئینی ریفرینڈم شاید کسی اور ملک میں ہوا تھا اور شاید حقیقت بھی یہی ہے۔

گزشتہ دو سال سے کم عرصے میں مصر نے ایک آمرانہ نظام سے ایک احتجاجی تحریک اور اب ایک غیر یقینی کے عالم تک کا سفر طے کیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ مصر کی فوج میں سے بنائی گئی سپریم کونسل شاید اقتدار واپس کرنا ہی نہیں چاہتی تاہم فوج نے کئی بار اس کی تردید کی ہے۔

مصر ابھی تک اپنے پہلے آزادانہ طور پر منتخب صدر کا منتظر ہے جبکہ یہ تو وقت تھا اس عوامی تحریک کی کامیابی کے جشن کا جس نے صدر حسنٰی مبارک کا تختہ الٹا۔

تجربہ کار صحافی اور ناشر ہشام قاسم کا کہنا تھا ’یہ ایک خوشی کا لمحہ ہونا چاہیے تاہم ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ یہ سفر اتنا آسان نہیں۔‘

انتخاب جیتنے والے صدر کے پاس نہ تو کوئی آئین ہوگا اور نہ ہی کوئی پارلیمان۔ صدر کے پاس تو ان کے سیاسی کردار یا اختیارات سے متعلق بھی کوئی دستاویز نہیں ہوگی۔ یہ سیاسی افراتفری مصر کے مستقبل سے متعلق کئی ماہ سے جاری اختلافات کی عکاس ہے۔

دوسری جانب نوبل انعام یافتہ محمد البریدی جیسے ممکنہ سیاستدان پہلے ہی میدان چھوڑ چکے ہیں۔ محمد البریدی کے خیال میں یہ تبدیلی صرف دکھاوے کی ہے۔

مصر کے جو بھی نئے صدر منتخب ہوں گے انہیں ایک غیر متحد قوم ملے گی جو ان دونوں صدارتی امیدواروں میں سے کسی ایک کی حمایت میں متحد ہوتے نظر نہیں آتے۔

مصری ویب سائٹ ’مونوکل‘ کی ایڈیٹر رانیا الماکی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جو بھی اس انتخاب میں کامیاب ہو، اس کے خلاف انتقامی مہم چلے گے۔ ہم شاید پہلے سے زیادہ مشکل جگہ پر پہنچ گئے ہیں۔‘

سابق وزیرِ اعظم اور مصری فضائیہ میں ایک سابق کمانڈر احمد شفیق نے خود کو ایک قانون و نظم والے امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا۔

مصر میں وہ عوام جو غیر یقینی اور حفاظتی حالات کے فکرمند ہیں، ان کی حمایت کرتے ہیں۔

فہدی رمزی نامی کاروباری شخصیت کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایک تجربہ کار شخص چاہیئے، ہمیں استحکام چاہیئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بہت سے ووٹر حالات سے تنگ آ کر اپنے ووٹ ضائع کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایک اور شہری احمد سرہان کے خیالات کچھ مختلف ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’مجھ سے تجربے کی بات نہ کریں! ہم ساٹھ سال سے ہر چیز میں ناکام ہو رہے ہیں۔ مصر میں تجربہ کار لوگ بہتر نہیں ہیں۔‘

اخوان المسلمین کے محمد مرسی کی حمایتی، ایک میڈیکل کی طالبہ ہدیل احمد کا کہنا تھا ’ہمیں تبدیلی چاہیئے‘۔

بتیس سالہ ٹوئر گائیڈ احمد صدیق کہتے ہیں کہ احمد شفیق ایک چھوٹے حسنی مبارک ہوں گے۔

نور نامی ایک نوجوان کارکن نے پیلے رنگ کے سٹکر اٹھا رکھے تھے جن پر ’باطل‘ درج تھا۔ متعدد مشتعل مصری ووٹر ان سٹکروں کی مدد سے اپنے ووٹ کو ضائع کر رہے ہیں۔

پارلیمان کی تحلیل کے بعد نور کا کہنا ہے کہ اب حقیقت واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہم اپنی فوج کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔

اگر احمد شفیق کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ گزشتہ حکومت جیسے نہیں۔ اگر محمد مرسی کامیاب ہوتے ہیں تو ان کو ثابت کرنا ہوگا کہ اخوان المسلمین کو اپنے نظریات سے زیادہ عوام کی فکر ہے۔

صحافی ہشام قاسم کا کہنا ہے کہ ’کہانی میں موڑ جو بھی آئے، مجھے بدامنی کی توقع ہے۔‘