مصری فوج کا وسیع کاروبار جو راز ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مشرق میں واقع ریگستان میں مصری فوج نے ایک عظیم الشان سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا ہے۔

اس کمپلیکس میں دیگر سہولیات کے ساتھ ایک ہوٹل ہے اور پانچ لین والی موٹر وے، فلائی اوور اور سرنگ ہے تاکہ ٹریفک جام نہ ہو۔ اس جگہ کو ’نیو قاہرہ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس جگہ مصر کے امراء بشمول ملک کی طاقتور فوجی کونسل کے اراکین کے شاندار مکانات ہیں۔

نیو قاہرہ میں تعمیر کیے گئے سٹیڈیم کا نام ’تیس جون‘ رکھا گیا ہے۔ تیس جون اس لیے کہ اس تاریخ کو فوجی کونسل نے سویلین صدر کو اختیارات منتقل کرنے ہیں۔

اس کمپاؤنڈ کی جانب جانے والی شاہراہ پر بینر آویزاں ہیں جن پر لکھا ہے ’فوج اور عوام ایک ہیں۔‘

یہ نعرہ اس وقت بہت مشہور ہوا جب التحریر سکوائر میں لوگ سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف جمع ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد سے وہی لوگ اسی سکوائر میں اب فوج کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔

اس جگہ کی تعمیر میں صرف دو سال لگے اور یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فوج بہت جلدی اور مؤثر انداز میں کام کرتی ہے۔ یہ بات مصر میں مانی جاتی ہے کہ فوج ملک کے لیے اچھے پراجیکٹ بناتی ہے۔

اگرچہ التحریر سکوائر میں فوج کافی بدنام ہے لیکن مجموعی طور پر فوج کو ابھی بھی پسند کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ اس قسم کے پراجیکٹ تعمیر کرنے کے علاوہ کئی دہائیوں سے کیے جانے والا ریاستی پروپیگینڈا ہے۔

لیکن کسی کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ فوجی بیرکس کو ایک شاندار پراجیکٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیسے لیے گیا اور اس پر کتنی لاگت آئی ہے اور اس کا منافع کس کو فائدہ پہنچائے گا۔

یہ تمام معلومات کو راز میں رکھا جاتا ہے اور فوجی قیادت پرعزم ہے کہ مستقبل میں بھی کوئی اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔

مصری فوج کا کاروبار وسیع ہے جس میں روزمرہ استعمال کی اشیاء، اشیائے خوردو نوش، پینے کا پانی، تعمیراتی کام، کان کنی، زمین کی بحالی اور سیاحت۔

ریاست میں ریاست

مصر میں جیسے جیسے فوج کے کردار کے حوالے سے آوازیں بلند ہوتی جا رہی ہیں، وہاں نائب وزیر دفاع جنرل محمود نصر نے پچھلے سال ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فوج کی نگرانی میں چلائے جانے والے پراجیکٹس کو کسی اور اتھارٹی کے حوالے نہیں کیے جاسکتے۔ ’یہ پراجیکٹس ریاستی اثاثے نہیں ہیں بلکہ یہ وزارتِ دفاع کی محنت سے تعمیر کیے گئے ہیں اور یہ وزارت کے اثاثے ہیں۔‘

اسی عرصے میں اعلان کیا گیا کہ مصری فوج نے وزارتِ خزانہ کو بڑی رقم دی ہے تاکہ وہ خالی ہوتے سرکاری خزانے کو بھر سکے۔

فوج کے ان اقدام سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح فوج ریاست میں ایک ریاست کے طور پر کام کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

فوج کے کاروبار کے حجم کا صحیح اندازہ نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ مجموعی قومی پیداوار کا آٹھ سے چالیس فیصد ہے۔ چونکہ فوجی اکاؤنٹ کو راز میں رکھا جاتا ہے اس لیے کسی کو بھی صحیح معلومات نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ مصری فوج کا اثر و رسوخ اپنے اداروں سے باہر کہیں زیادہ پھیلا ہوا ہے۔

سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت ختم ہویے ایک سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن فوج ابھی بھی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ مصر کے زیادہ تر گورنرز ریٹائرڈ فوجی ہیں۔ زیادہ تر سویلین ادارے اور ریاستی کارپوریشنز کے سربراہ ریٹائرڈ فوجی جنرلز ہی ہیں۔

ملک کی تین بڑی ارضی ترقی کی اتھارٹیاں یعنی زرعی، شہری اور سیاحت کے سربراہ سابق فوجی افسران ہیں۔ یہ افسران اپنی پینشن کے علاوہ ان اتھارٹیوں سے بھاری تنخواہ بھی حاصل کرتے ہیں۔

اسی بارے میں