امریکی آئین کا مسودہ ایک کروڑ ڈالر میں فروخت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کی ذاتی تحویل میں امریکی آئین کا مسودہ ایک نیلامی کے دوران تقریباً ایک کروڑ ڈالر میں فروخت کیا گیا ہے۔

یہ کتاب انیس سو نواسی میں شائع کی گئی جس پر پہلے صدر کی وضاحتی کلمات بھی درج ہیں۔

اس مسودے کی اندازاً طے کی گئی قیمت بیس سے تیس لاکھ ڈالر تھی لیکن دو سو تیئس برس قدیم اِس کتاب کے لیے بولی توقع سے کہیں زیادہ لگائی گئی۔

مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس کتاب پر موجود جارج وشنگٹن کی ذاتی تحریر نے اس مسودے کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔ پہلے صدر ہونے کی حیثیت سے جارج واشنٹگن اس بات سے آگاہ تھے کہ وہ اپنے اقدامات سے ایک مثال قائم کر رہے ہیں۔

چمڑے کی جلد میں محفوظ یہ کتاب اب بھی صحیح حالت میں ہے اور اس پر جارج واشٹگن کی خاندانی مُہر چپھی ہوئی ہے۔

اس کتاب میں شامل تحریروں میں کانگریس کے ابتدائی اقدامات جیسے کہ ریاست کی تنظیم سازی، عدلیہ، دفاع اور معیشت کے لیے قانون سازی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

Image caption جارج واشنٹگن نے جنگِ آزادی میں امریکی فوج کے کمانڈر کا کردار ادا کیا جس کے بعد وہ متفّقہ طور پر امریکہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

اس کتاب کے حصول کے لیے نیلامی کے دوران دو خریداروں میں سخت مقابلہ ہوا۔ اب اس کتاب کے نئی مالک ’ماؤنٹ ورنین لیڈیز ایسوسی ایشن‘ ہے جس نے اس کتاب کے لیے اٹھانوے لاکھ چھبیس ہزار پانچ سو ڈالر ادا کیے ہیں۔

اٹھارہ سو چھہتر میں یہ کتاب ایک نیلامی کے دوران ایک نجی ادارے نے خرید لی تھی اور اسے دوبارہ انیس سو چونسٹھ میں رچرڈ ڈیچرچ کو فروخت کیا گیا۔

جارج واشنٹگن نے جنگِ آزادی میں امریکی فوج کے کمانڈر کا کردار ادا کیا جس کے بعد وہ متفّقہ طور پر امریکہ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

دو مرتبہ صدر کی حیثیت سے فرائص انجام دینے کے بعد انہوں نے ماؤنٹ ویرنین میں تین سال گزرے۔ ان کا انتقال سترہ سو ننانونے میں ہوا۔

اسی بارے میں