پناہ گزینوں کے بارے میں وڈیو گیم

پناہ گزین تصویر کے کاپی رائٹ unhcr
Image caption یواین ایچ سی آر نے پناہ گزینوں کے متعلق بیداری کے لیے ایک گیم لانچ کیا ہے۔

پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کی ایجنسی نے ایک سمارٹ فون گیم جاری کیا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں پھیلے پناہ گزینوں کے متعلق لوگوں میں بیداری پیدا کرنا ہے۔

اس کھیل کا نام ہے ’مائی لائف ایز اے ریفیوجی‘ یعنی میری زندگی بحیثیت پناہ گزین۔ اس میں کھیلنے والوں کو ایسے حالات میں لے جایا جاتا ہے جہاں وہ جنگی حالات سے دو چار علاقے سے بھاگ رہے ہیں اور اپنے خاندان کے افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

عالمی تنظیم یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ اس میں پیش کردہ معلومات پناہ گزینوں کی حقیقی زندگی پر مبنی ہیں۔

ایک مبصّر کا کہنا ہے کہ اس کھیل کا عنوان عوام کو دوسرے گیم جیسے ’اینگری برڈز‘ کی سطح پر اپیل نہیں کرے گا لیکن بہر حال اس کے اپنے استعمال کرنے والے ہونگے۔

اس گیم کے متعلق اپنی ویب سائٹ پر جاری تفصیلات میں یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے پناہ گزینوں کی زندگی کے تجربات کو سامنے لایا گیا ہے اور دنیا بھر میں پھیلے لاکھوں پناہ گزینوں کے زندگی کو تبدیل کر دینے والے چند فیصلوں اور ان کے نتائج کو پیش کیا گیا ہے۔

اس کھیل میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں کو تقریباً حقیقی پناہ گزینوں میں بدل دیا جاتا ہے جو ظلم و ستم یا مصلح تصادم سے بچنے کی کوشش میں ہیں۔ اس گیم کے دوران انہیں مختلف قسم کے چیلنجوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور زندگی کی اس تلاش میں وہ اپنے کنبے کے افراد کو تلاش کرتے ہوئے محفوظ ٹھکانوں پر پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پناہ گزین کے متعلق اقوام متحدہ کی ایجنسی نے ایک گیم جاری کیا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کے رجحانات کا تجزیہ کرنے والی آئی ایچ ایس سکرین ڈائجسٹ کے سینيئر تجزیہ نگار جیک کنٹ کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی عالمی تنظیم کے سامنے اس کھیل کو لوگوں میں متعارف کرانا اپنے آپ میں بڑا چیلنج ہوگا۔

کنٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ گیم دوسرے بڑے گیمز جیسے اینگری برڈز یا زنگا سے مقابلے کے لیے تیار نہیں کیا گیا ہے۔ یہ ایک تعلیمی پروگرام ہے اور عوام میں اس کے تئیں بیداری لانے کے لیے اسے صحیح سمت میں پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’سب سے بڑا چیلنج اسے سکولوں کے ذریعے متعارف اور مشتہر کرنا ہے، اساتذہ کو اس میں شامل کرنا ہے اور پھر جب ایک بار استعمال کرنے والوں کا اس کا علم ہو جائے تو وہ اسے کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ شيئر کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں