مرسی: اوباما سمیت عالمی رہنماؤں کی مبارکباد

محمد مرسی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نو منتخب صدر نے حسنی مبارک کے پرانے دفتر میں کام شروع کر دیا ہے

مصر کے نومنتخب صدر محمد مرسی کو امریکی صدر اوباما سمیت عالمی رہنماؤں نے مبارکباد دی ہے۔

امریکی صدر نے محمد مرسی کو فون کر کے ان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے سفر میں امریکہ مصر کی حمایت کرتا رہے گا۔ صدر اوباما نے ہارنے والے صدارتی امیدوار اور سابق وزیر اعظم احمد شفیق سے بھی ٹیلی فون پر بات کی اور ان کو کہا کہ وہ بھی مصر میں یکجہتی اور قومی مفاد کے لیے اپنا کام جاری رکھیں۔

ایران نے بھی مصر میں اخوان المسلین سے تعلق رکھنے والے نو منتخب صدر کے انتخاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ اب ’مصر کی اسلامی بیداری کا حتمی مرحلہ ہے۔‘

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کرتا ہے اور اسے توقع ہے کہ وہ 1979 کے امن معاہدے پر عمل کرتا رہے گا۔

سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نےمسٹر مرسی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’اللہ آپ کو اسلام اور مصر کی خدمت کرنے میں کامیابی عطا کرے۔‘

برطانیہ کے وزیر خارجہ نے نومنتخب صدر کو مبارکباد کے پیغام میں کہا کہ ’یہ مصر کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔‘

امکان ہے کہ محمد مرسی تیس جون کو بطور صدر حلف اٹھالیں گے۔

اطلاعات کے مطابق محمد مرسی نے اپنی حکومت تشکیل کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ وہ صدارتی دفتر میں منتقل ہو چکے ہیں اور ان کی دیگر سیاسی شخصیات سے بات چیت چل رہی ہے۔

محمد مرسی مصر کے پہلے سویلین صدر ہوں گے۔ ان سے پہلے حسنی مبارک اس عہدے پر تیس سال تک رہے۔ صدر مبارک کو پچھلے سال مصر میں عوامی انقلاب کے بعد عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔ تاہم ان کے ہٹنے کے بعد اور محمد مرسی کے انتخاب کے درمیان کے عرصے میں فوج کی سپیرم کونسل نے ملک کا کنٹرول سنبھالے رکھا اور اس دوران اس نے اقتدر پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں جن میں فوجی کونسل کو نا صرف قانون سازی کے اختیارات دیے گئے ہیں بلکہ فوج کو شہریوں کی گرفتاری اور ان پر فوجی عدالتوں میں کارروائی کرنے کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔

فوج کی سپریم کونسل مصر کے دفاعی اور خارجہ امور کے لیے ذمہ دار ہوگی تاہم صدر داخلہ امور چلائیں گے۔

صدر کو وزیر اعظم تعینات کرنے کا اختیار ہے اور اس سلسلے میں مذاکارت جاری ہیں، کچھ اطلاعات کے مطابق محمد البرادئی بھی ممکنہ امیدوار ہیں۔ نو منتخب صدر نے کہا ہے کہ وہ کئی نائب صدور نامزد کریں گے۔

فوجی کونسل کی جانب سے پارلیمان کو تحلیل کرنے کی وجہ سے محمد مرسی کے ساتھ نہ تو قانون سازی کرنے والی پارلیمان ہو گی اور نہ ہی اپنے دائرۂ اختیار کا تعین کرنے کے حوالے سے کوئی مستقل آئین موجود ہو گا۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد صدر کی حلف برداری کے لیے پارلیمان کے اجلاس بلانے کی کچھ باتیں کی گئیں تاکہ وہ پارلیمان کے سامنے حلف اٹھا سکیں۔ تاہم پیر کو جاری ہونے والےایک سرکاری بیان میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ صدر ایک آئینی عدالت کے سامنے حلف اٹھائیں گے۔

اسی بارے میں