مصر: خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی متوقع نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مصر کے ہمسایہ ممالک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ نئے صدر کے آنے سے مصری خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلی متوقع ہے۔ تاہم ان کو فی الحال اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ خارجہ پالیسی کا کنٹرول مصر کی ملٹری کونسل کے پاس ہے۔

مصر کے نئے سیاسی نظام کی شکل اس سال کے آخر تک واضح ہو گی۔ لیکن اس کے باوجود حکومت سیاسی نظام کو بہتر کرنے میں ہی مصروف رہے گی۔

اخوان المسلمون نہایت محتاط جماعت ہے اور اس کو معلوم ہے کہ مصر کے اندرونی مسائل بہت ہیں۔ اس لیے مستقبل قریب میں خارجہ پالیسی میں کسی خاص تبدیلی کی توقع نہیں ہے بشرطیکہ کوئی علاقائی تصادم کھڑا ہو جائے۔

سابق صدر حسنی مبارک کا اقتدار ختم ہونے سے لے کر اب تک ہمسایہ ممالک اخوان المسلمون کے آگے آنے کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کے لیے مذہبی جماعت کا اقتدار میں آنا نہایت فکر مند ہے۔

دیگر اسلامی جماعتوں کی طرح اخوان المسلمون نے اسرائیل سے نفرت کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ اخوان المسلمون اور دیگر سیکولر قوم پرست جماعتیں اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معاہدے کی خلاف ہیں۔ لیکن ان جماعتوں کو محتاط انداز میں ان معاہدوں کو قبول کرنا ہی پڑا ہے۔ اس کے بغیر یہ بات ناممکن تھی کہ مصری فوجی کونسل اخوان المسلمون کو اقتدار میں آنے دیتی۔

یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اخوان المسلمون نے امریکہ کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔

لیکن کیا صدر مرسی یا ان کی جماعت جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی کا کوئی ممبر اسرائیلی کے ساتھ ہاتھ ملائیں گے؟

اخوان المسلمون کے قاہرہ میں ترجمان سے جب یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے عندیہ دیا کہ جماعت کو وزیر خارجہ اس کو بنانا ہو گا جو ان کی جماعت سے نہ ہو۔

دوسری جانب صدر مرسی کے اقتدار میں آنے پر اسرائیل کا سرکاری مؤقف نہایت محتاط ہے۔ لیکن اسرائیل کی نظر مصر کے نئے وزیرِ خارجہ پر ہے۔

فلسطینی تنظیم حماس جو غزہ میں کنٹرول میں ہے کو مصر کی نئی حکومت سے بڑی امیدیں وابسطہ ہیں۔ لیکن ان کو انقریب ہی ناامیدی کا سامنا کرنا پڑے گا جب صدر مرسی اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ دیں گے۔

اسرائیل کے علاوہ مصر کے خلیجی ہمسائے بھی سیاسی تبدیلی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے ان کے قریبی دوست حسنی مبارک کا اقتدار جانا بڑا دھچکہ تھا اور اس سے بھی زیادہ پریشان کن امر تھا حسنی مبارک پر مقدمہ چلنا اور عمر قید کی سزا ہونا۔

اگرچہ خلیجی ممالک اور اخوان المسلمون میں مماثلت پائی جاتی ہے جیسے کہ خواتین کی حیثیت اور ان کی ذاتی آزادی پر قدغن، لیکن خلیجی ممالک اخوان المسلمون کے مذہبی ایکٹوزم سے کافی محتاط ہیں۔

اطلاعات کے مطابق خلیجی ممالک کو خوف ہے کہ کہیں مصر کے انقلاب کی ’وباء‘ ان کے ممالک میں نہ پھیل جائے اور وہ مصری تارکینِ وطن پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے مصری لوگوں کے لیے کام کرنے کی اجازت کی شرائط کو مزید سخت کر دیا ہے۔

اسی بارے میں