امیگریشن قانون پر سپریم کورٹ کی حمایت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اریزونا کے قانون کے خلاف احتجاج بھی ہوئے تھے

امریکہ کی سپریم کورٹ نے امیگریشن سے متعلق ریاست اریزونا کے نئے قانون کی حمایت کی ہے لیکن اس کی بعض شقوں کو کالعدم قرار دیا ہے۔

عدالت نے اس پہلو کی حمایت کی ہے کہ جو شخص ایروزانا میں ٹھہرے یا گرفتار کیا جائے اس کے امیگریشن کی سٹیٹس کو چیک کیا جا سکتا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ ایروزنا کا امیگریشن قانون وفاقی قانون سے متصادم ہے اور اگر ایسا کچھ ہوا تو مستقبل میں اس کی قانونی حیثیت کو عدالت میں پھر سے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

لیکن عدالت نے امیگریشن سے متعلق نئے متنازعہ قانون کی تین سخت ترین اہم شقوں کو مسترد کر دیا ہے۔

قانون کی ایک شق جس کے مطابق، تارکین وطن کو اپنی سٹیٹس کا ثبوت اپنے پاس رکھنا ضروری تھا اور دوسری جس کے تحت کام کرنے کا اجازت نامہ نہ ہونے پر کام کے لیے درخواست دینا مجرمانہ فعل تصور کیا جائے گا، کو مسترد کر دیا ہے۔

عدالت نے ایک اور اہم اعتراض کو تسلیم کرلیا جس کے تحت پولیس کو یہ اختیار تھا کہ محض شک کی بنیاد پر پولیس کسی سے بھی تفتیش کرسکتی ہے جس کے متعلق اسے شبہہ ہو کہ وہ شخص غیر قانونی طور پر ملک میں ہوسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس شق کو بھی کالعدم قرار دیا ہے۔ اریزونا ریاست کے اس قانون کو امریکہ کی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے عدالت عظمی کے فیصلے پر یہ کہتے ہوئے خوشی ظاہر کی ہے کہ عدالت نے تین اہم چيلنجوں کو تسلیم کرلیا ہے۔

لیکن انہوں نے کہا ’میں اب بھی اریزونا کے قانون پر عمل درآمد کرنے کے پہلوؤں کے حوالےسے تشویش میں ہوں جس میں مقامی قانون نافذ کرنے والے افسران جس کے متعلق بھی شک کریں اس کے امیگریشن سٹیٹس کو چیک کر سکتے ہیں۔‘

’ کسی بھی امریکی شہری کو اپنے حلیے کے سبب کبھی بھی شکوک کے بادلوں کے نیچے نہیں رہنا چاہیے۔‘

لیکن اریزونا کی گورنر جین بنیویر نے کہا کہ قانون کا ’دل‘ جوں کا توں برقرار رہےگا۔'

آئندہ صدارتی انتخابات میں صدر اوباما اور اور ریپبلکن پارٹی کے مٹ رومنی کے درمیان ہسپانوی لوگوں کے ووٹ کے لیے امیگریشن کے سوال پر بحث جاری ہے۔

دونوں ہی رہنما ہسپانویوں کے ووٹ کے لیے امیگریشن قوانین میں اصلاحات کی بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔

اسی بارے میں