بنگلہ دیش میں طوفانی بارش، اسی ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام مستقل لوگوں کو تودے گرنے کے خطرے سے خبردار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

جنوب مشرقی بنگلہ دیش میں طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے سے 90 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔

گزشتہ تین روز سے لگاتار برسنے والی موسلادھار بارشوں کے باعث کئی علاقوں میں بند ٹوٹ گئے ہیں۔ کئی لوگ تودوں کی زد میں آنے والے اپنے ہی مکانات میں دب کر ہلاک ہوگئے جبکہ کئی اور سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔

ساحلی شہر چٹاگانگ کے کئی علاقے سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور حکام کے مطابق یہ گزشتہ کئی برسوں میں اس خطے میں ہونےوالی شدید ترین بارش تھی۔

بارشوں اور سیلاب کے بعد کم سے کم ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ چٹاگانگ کا نیم پہاڑی علاقہ ہے جہاں رضاکار مختلف بستیوں میں لاؤڈ سپیکر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو مزید بارشوں سے خبردار کر رہے ہیں۔ کاکس بازار کے علاقے میں لوگوں کو تودے گرنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع مواصلات درہم برہم ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگ امداد کے منتظر ہیں۔

چٹاگانگ سے متصل علاقے بندربن میں حکام کے مطابق زمین سرکنے اور تودے گرنے کے کئی واقعات ہوئے ہیں اور کئی مقامات سے مرنے والوں کی لاشیں بھی نکالی گئی ہیں۔

قدرتی آفت کی وجہ سے حکام کو چٹاگانگ سمیت علاقے میں باقی ہوائی اڈے بھی بند کرنا پڑے ہیں جبکہ ریل رابطہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی تلاش کا کام جاری ہے جس میں سیکیورٹی فورسز بھی حصہ لے رہی ہیں۔

حکام نے آئندہ چند روز کے دوران مزید بھاری بارشوں کی پیش گوئی ہے۔

اسی بارے میں