شام: ٹی وی چینل کی عمارت پر حملہ، سات ہلاک

شام کے دارالحکومت دمشق میں مسلح افراد نے شام کی حکومت کے حامی ایک ٹی وی چینل کی عمارت پر حملے کر کے سات افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

ٹی وی سٹیشن پر حملے کی تصاویر

شام کے سرکاری خبررساں ادارے ثنا نیوز نے اطلاع دی ہے کہ دمشق کے جنوب میں واقع اس ٹی چینل کی عمارت پر حملے میں ہلاک ہونے افراد میں اخبار نویس اور محافظ شامل ہیں۔

اس حملے سے چند گھنٹوں قبل شام کے صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ شام کو ایک طویل جنگ کا سامنا ہے۔ امریکی خفیہ اداروں کا بھی یہی کہنا تھا کہ شام میں مسلح کشمکش لمبے عرصے تک چل سکتی ہے۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی نمائندے کوفی عنان نے اقوام متحدہ کے شام سے متعلق ایکش گروپ کا اجلاس ہفتے کو طلب کر لیا ہے۔

کوفی عنان کے ایک نائب کا کہنا تھا کہ شام میں تشدد کی شدت میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور یہ اپریل میں جنگ بندی سے پہلے کی سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے نمائندے جم میور کا کہنا ہے کہ شام کے سرکاری ٹی وی چینل نے معمول کی نشریات روک کر الاخباریہ ٹی وی پر ہونے والے حملے کی خبر نشر کی۔

ٹی وی پر نشر ہونے والی خبر میں عمارت کے ان حصوں کو دکھایا گیا جن میں حملے کے بعد آگ لگ گئی تھی۔

شام کے وزیر اطلاعات نے متاثرہ عمارت کا دورہ کیا اور کہا کہ کچھ لوگوں کو یرغمال بھی بنا لیا گیا ہے۔

انھوں نے اس موقع پر یورپی یونین کی طرف سے سرکاری ٹی وی چینل اور ریڈیو پر لگائی جانے والی پابندیوں کی بھی مذمت کی۔

اخباریہ پر ہونے والے حملے سے قبل دارالحکومت کے مضافات میں اب تک کی شدید جھڑپیں ہوئیں۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے نمائندے کوفی عنان نے کہا ہے کہ ہفتے کو جینوا میں شام کے بارے میں اقوام متحدہ کے گروپ کے ملکوں کو اجلاس ہوگا جس میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ملکوں کے علاوہ ترکی، عراق، کویت اور قطر شامل ہیں۔

اس اعلان میں ایران کی شمولیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا جس کو اجلاس میں شامل کرنے پر روس زور دے رہا ہے۔

کوفی عنان نے اس اجلاس کے بارے میں کہا کہ اس کا مقصد امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے اور سیاسی عمل سے اقتدار کی منتقلی کے لیے حمایت حاصل کرنا۔

امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا کہ اگر تمام فریق اقتدار کی منتقل کے عمل سے متفق ہو جائیں تو امید پیدا ہو سکتی ہے اور یہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

اس سال اپریل میں کئی مہنیوں کی لڑائی اور خون خرابے کے بعد شام کی حکومت ایک چھ نکاتی امن منصوبے پر متفق ہو گئی تھی۔

اس امن منصوبے کے تحت ہی اقوام متحدہ کے مبصرین کو جنگ بندی کی نگرانی کرنے کے لیے شام بھیجا گیا تھا لیکن امن منصوبے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ان مبصرین کو بھی متاثرہ علاقوں میں اپنے گشت بند کرنے پڑے۔