بنگلہ دیش:مون سون کی تباہی، درجنوں ہلاک

مٹی کے تودے گرنے کے بعد کارروائی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹی کے تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر پہاڑی علاقوں میں جنگل کی کٹائی روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے

بنگلہ دیش کے سیلاب اور مٹی کے تودوں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو دس ہو گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ کسی کے لاپتہ ہونے کی کوئی نئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

بارش رک چکی ہے لیکن چٹاگانگ شہر کے کئی حِصّے زیر آب ہیں۔ شہر سے پروازوں کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ لیکن ہزاروں لوگ ابھی گھروں سے باہر رہنے پر مجبور ہیں اور بلند مقامات پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔امدادی کارکن ان لوگوں تک چاول اور پانی پہنچا رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ چٹاگانگ اور دیگر جنوب مشرقی علاقوں میں پانی کی سطح کے کم ہونے کے ساتھ لوگوں نے مٹی کے تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر پہاڑی علاقوں میں جنگل کی کٹائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثناء حکام کرناپھلی دریا پر نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ بدھ کو حکام نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں چٹاگانگ کے علاقے میں برسوں میں سب سے شدید مون سون بارشیں ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے زیادہ تر اچانک آنے والے سیلاب، مٹی کے تودوں اور آسمانی بجلی کا نشانہ بنے اور لوگ گھروں کے نیچے دب کر بھی ہلاک ہوئے۔ بہت سے بے گھر لوگ حکام کی طرف سے متنبہ کیے جانے کے باوجود پہاڑوں کے نچلے حصوں پر آباد تھے۔

چٹاگانگ کی بندرگاہ پر منگل کو بارہ گھنٹے کے دوران چالیس سنٹی میٹر بارش ہوئی جو گزشتہ پانچ برسوں میں سب سے زیادہ بارش میں شامل ہوتی ہے۔

چٹاگانگ میں حالیہ برسوں میں بارشوں سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی کوشش کی ہے لیکن اسے اس میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں