بیرونی ہتھیاروں سے جنوبی سوڈان میں تشدد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بیرونی ہتھیاروں کی آمد سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بیرونی ممالک کی طرف سے جنوبی سوڈان کو ہتھیاروں کی سپلائي سے ملک میں تشدد کو ہوا مل رہی ہے۔

ایمنسٹی کی ایک رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ چین، یوکرائین اور سوڈان کے ہتھیار جنوبی سوڈان پہنچ رہے ہیں جس سے وہاں تشدد بڑھ رہا ہے۔

اس کے مطابق جنوبی سوڈان کی فوج اور باغیوں کےشہری علاقوں میں حملوں سے درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان میں چینی ساخت کی لینڈ مائنز، سوڈانی ہتھیار اور یوکرائین کے ٹینک آسانی سے سپلائی ہوتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان کی جانب سے جو ٹینک استعمال کیےگئے وہ ایس پی ایل اے (ساؤتھ پیپلز لبریشن آرمی) کو دو ہزار سات اور نو کے درمیان ایک ٹرانسفر ڈیل کے تحت یوکرائین، جرمنی اور برطانیہ کی طرف سے کینیا کے راستے سے مہیا کیےگئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق دو ہزار پانچ میں سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان ایک جامع امن معاہدہ ہوجانے کو باوجود بھی یہ ہتھیار دیےگئے جبکہ یورپی یونین کی جانب سے ان پراس وقت پابندی بھی عائد تھی۔

جن ممالک کی طرف سے جنوبی سوڈان کو ہتھیار سپلائی کرنے والوں میں نام سامنے آیا ہے ان کی جانب سے ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس رپورٹ میں یونٹی سٹی کے مغربی علاقے میں واقع میام کاؤنٹی میں جاری تنازعہ پر توجہ دی گئی ہے۔

اس میں کہاگيا ہے کہ ملٹری ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے جو اندھا دھند مارٹر اور شیلز داغے جاتے ہیں اس میں شہری یا فوجی علاقے کی تمیز نہیں ہوپاتی اور یہ عالمی انسانی قوانین کی صریحا خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی دنیا بھر کی حکومتوں پر اس بات کے لیے زور دیتی رہی ہے کہ جن علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا خطرہ ہو ان سے ہتھیاروں کی فروخت نہ کی جائے۔

خرطوم میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمس کوپنال کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تفصیلات پر تنازعہ ضرور پیدا ہوگا۔اگرچہ اس سے متعلق ایک دوسری رپورٹ میں بھی اسی طرح کے انکشافات کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں