ترکی نے طیارہ شکن توپیں تان لیں

شام کی سرحد کی طرف جاتے ہوئے ترکی کے ٹرک
Image caption ’شام کی جانب سے ترکی کی سرحد کی بڑھنے والے کسی بھی فوجی عنصر کو خطرہ اور جائز نشانہ سمجھا جائے گا‘

ترکی نے گزشتہ ہفتے اپنا ایک طیارہ مار گرائے جانے کے بعد شام کی سرحد پر راکٹ لانچر اور طیارہ شکن توپیں نصب کرنا شروع کر دی ہیں۔

ترکی کی فوج کی گاڑیوں کے کارواں سرحد کی طرف اس مقام کے مقام کے قریب جاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں جہاں حال ہی میں شام نے ترکی کا طیارہ مار گرایا تھا۔

ترکی کا ایف چار فینٹم ساخت کا طیارہ شام کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد سمندر میں گر گیا تھا۔ طیارہ کے پائلٹ ابھی لاپتہ ہیں۔

ترکی کی طرف سے شام کی سرحد پر فوجی طاقت میں اضافے کا فیصلہ وزیر اعظم رجب طیپ اردگان کی طرف سے فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان دو روز قبل کیا تھا۔

انہوں نے ترکی کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے شام کو ’واضح اور فوری خطرہ‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ شام کی جانب سے ترکی کی سرحد کی بڑھنے والے کسی بھی فوجی عنصر کو خطرہ اور جائز نشانہ سمجھا جائے گا۔

ترکی کے صدر عبداللہ گل جمعرات کو قومی سلامتی کونسل میں شام کی ساتھ کشیدگی کے مسئلے پر بحث میں حصہ لیں گے۔ شام میں حالات خراب ہونے کے بعد سے تینتیس ہزار پناہ گزیں سرحد پار کر کے ترکی میں داخل ہو چکے ہیں۔

دریں اثناء شام سے ملک کے دارالحکومت دمشق کے مرکز میں واقع قصرِ انصاف کے باہر دھماکے کی اطلاعات ملی ہیں۔ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی کہ ’دہشت گردوں‘ کی طرف سے ایک کار پارک میں دھماکہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ روس اور دیگر بڑی طاقتیں شام میں سیاسی تبدیلی کے آغاز کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی کوفی عنان کی طرف سے شام میں قومی حکومت کے قیام کی تجویز پر غور کر رہی ہیں۔

اس تجویز پر سنیچر کو اقوام متحدہ کے شام کے لیے بنائے گئے ایکشن گروپ کے اجلاس میں بات چیت کی جائے گی۔

اسی بارے میں