غیر قانونی طور پر آسٹریلیا آنے والے دو گنا

غیر ملکی تارکین تصویر کے کاپی رائٹ Sydney Morning Herald
Image caption آسٹریلیا کے کرسمس آئی لینڈ پر ہر سال کئی حادثات ہوتے ہیں

آسٹریلیا میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالمالک عبداللہ نے بتایا ہے کہ پاکستان ، ایران اور افغانستان سے غیر قانونی طور پر آسٹریلیا آنے والے افراد کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت اس سال دو گنا اضافہ ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ بحر ہند میں غیر قانون تارکین وطن کی کشتیوں کو پیش آنے والے حادثوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ایک ہفتے میں بحر ہند میں کشتیوں کے ڈوبنے کے دو بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو روز پہلے کرسمس آئی لینڈ میں ایک اور کشتی سمندر میں ڈوب گئی تھی جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جن میں سے بیشتر کو بچا لیا گیا ہے، صرف ایک شخص کی لاش ملی ہے جبکہ پندرہ سے بیس افراد اب تک لاپتہ ہیں۔

سڈنی سے ٹیلیفون پر بی بی سی بات چیت کرتے ہوئے عبدالمالک عبداللہ نے کہا کہ اس واقعہ میں ایک سو پچیس افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ دو روز پہلے کرسمس آئی لینڈ سے کوئی ایک سو بیس کلومیٹر دور پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت اپنے قانون کے تحت ان افراد کی شناخت ظاہر نہیں کر رہی۔

یہاں کوئٹہ سے ہزارہ قبیلے کے افراد نے کہا ہے کہ دو روز پہلے پیش آنے والے حادثے کا شکار کشتی میں بھی بیشتر پاکستانی تھے جن میں زیادہ تعداد کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہی بتائی گئی ہے۔

عبدالمالک عبداللہ نے بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں کوئٹہ سے ہزارہ قبیلے کے افراد اور قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے اہل تشیع فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد غیر قانونی طور پر آسٹریلیا پہنچتے ہیں اور یہاں پناہ کے لیے درخواست دے دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران سے آنے والے غیر قانونی تاریکین وطن کی تعداد میں اس سال اب تک دو گنا اضافہ ہو چکا ہے اور اس بارے میں آسٹریلیا کے ایوان میں اب بحث بھی کی جا رہی ہے کہ اس سلسلے کو کس طریقے سے روکا جائے۔

اکیس جون کو پیش آنے والے حادثے میں تراسی افراد کو بچا لیا گیا ہے جو اس وقت آسٹریلیا کے حراستی مرکز میں ہیں اور آسٹریلیا کی حکومت نے ان کا رابطہ ان کے خاندان کے افراد سے کرا دیا ہے جبکہ نوے لاپتہ افراد کی تلاش کا کام موسم کی خرابی کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔

ادھر کمشنر کوہاٹ صحابزادہ محمد انیس نے بی بی سی کو بتایا کہ اکیس جون کو بحر ہند میں ڈوبنے والی کشتی میں سوار چھہتر افراد کے خاندان والوں نے ان سے اب تک رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق کشتی میں دو سو کے لگ بھگ افراد سوار تھے جن میں اطلاعات کے مطابق زیادہ تعداد کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔ انہو ں نے کہا کہ کرم ایجنسی سے بیشتر افراد روزگار کی تلاش کے لیے غیر قانونی راستہ اپنا کر آسٹریلیا جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح کی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کرم ایجنسی اور کوئٹہ میں حادثے کے شکار افراد کے لواحقین میں تشویش پائی جاتی ہے اور اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے وہ مختلف فورمز پر رابطے کر رہے ہیں لیکن آسٹریلیا میں پاکستانی ہائی کمشنر کے مطابق اپنی شناخت چھپانے کی غرض سے کسی بھی پاکستانی نے ہائی کمیشن سے رابطہ قائم نہیں کیا ہے۔