شام میں عبوری حکومت بنانے پر عالمی طاقتوں میں اتفاق

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے نمائندے کوفی عنان نے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں کے وزراء خارجہ شام میں امن کی بحالی کے لیے عبوری حکومت بنائے جانے پر متفق ہو گئے ہیں۔

کوفی عنان نے کہا کہ جینیوا میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ شام میں ایک خودمختار عبوری حکومت قائم ہونی چاہیے۔

کوفی عنان نے کہا کہ اس عبوری حکومت میں شام کی موجودہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں کے نمائندوں کو شامل ہونا چاہیے۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر بشار الاسد کا اس عبوری حکومت میں کیا کردار ہوگا۔ کوفی عنان نے اس بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ شام کے عوام کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کانفرنس کے بعد کہا کہ صدر بشار الاسد اس عبوری حکومت کا حصہ نہیں ہو سکتے۔

روس کے وزیر خارجہ سرغی لاروف نے کہا کہ اس منصوبے میں ایسی کوئی شرائط عائد نہیں کی گئیں کہ کون اس عبوری حکومت کا شامل ہو گا اور کون نہیں۔

جینیوا میں ایک اجلاس کے بعد کوفی عنان نے کہا کہ شام میں تشدد انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے اور تمام فریقین کو جنگ بندی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے عالمی طاقتوں کے وزراء خارجہ کو خبردار کیا کہ انھیں شام میں لڑائی کا جلد کوئی حل نکالنا ہو گا یا پھر وہ بھی شام میں جاری خون خرابے کے ذمہ دار ہوں گے۔

کوفی عنان نے کہا کہ شام میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور عالمی امدادی اداروں کے نمائندوں کو جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جاری شورش میں اب تک پندرہ ہزار آٹھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطلاعات مے مطابق گزشتہ جمعہ کو ایک سو اسی افراد ہلاک ہوئے جب سرکاری فوجوں نے دمشق کے مضافات دوما اور شورش زدہ شہر حمص پر گولہ باری کی۔

ہفتے کو دمشق سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بہت سے لوگ سرکاری فوجوں کی مسلسل گولہ باری کی وجہ سے دوما رہائشی علاقوں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں