ہانگ کانگ: چین کو منتقلی کے پندرہ برس مکمل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی صدر تقریبات میں شرکت کے لیے ہانگ کانگ پہنچ چکے ہیں

ہانگ کانگ کے انتظامی امور کی چین کو منتقلی کے پندرہ سال مکمل ہونے پر شہر میں جشن منایا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں منعقد ہونے والی مرکزی تقریب کی سربراہی چینی صدر ہو جنتاؤ کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے انہوں نے کاروباری شخصیت سی وائے لیونگ سے ہانگ کانگ کے نئے سربراہ کا حلف لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہانگ کانگ کی جزوی خودمختاری برقرار رکھنے کے عزم کی تائید کی۔

چینی صدر نے پندرویں سالگرہ کو ایک خوشگوار موقع قرار دیا۔

تاہم اس موقع پر ہانگ کانگ کی سڑکوں پر ہزاروں مظاہرین کی آمد متوقع ہے۔

مظاہروں کی ایک اہم وجہ وہ نظام ہے جس سے ہانگ کانگ کے سربراہ کو چنا جاتا ہے۔ شہر کے سربراہ کا انتخاب بارہ سو ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی کرتی ہے جس میں زیادہ تر چین کی حمایت کرنے والی کارروباری شخصیات اور دیگر بااثر شہری شامل ہوتے ہیں۔

ہانگ کانگ کے کئی رہائشیوں کا خیال ہے کہ یہ نظام چین کی پسند کے رہنمائوں کو ہی منتخب کرتا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار جولیانہ لوئی نے ہانگ کانگ سے بتایا کہ صدر ہو جنتاؤ کے دورے کی تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس موقع پر ہانگ کانگ میں احتجاج بھی جاری تھا

تاہم سنیچر کو دورے کے دوران چینی صدر کو مظاہرین محفوظ رکھنے کے لیے پولیس نے ’پیپر سپرے‘ کا استعمال کیا۔ مظاہروں میں مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن لی وینیینگ کی ہلاکت کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا۔

نامہ نگار کا کہنا تھا کہ یہ دورہ صدر ہو جنتاؤ کے پانچ سال پہلے کے دورے سے بہت مختلف ہے۔ اُس وقت اولمپک مقابلوں کے آغاز سے قبل خوشی کا سماں تھا جبکہ اس بار وہ ایک ایسے وقت پر آئے ہیں جب شہر کے رہائشیوں میں چینی حکومت پر اعتماد کی شدید کمی ہے۔

عوامی مسائل میں پراپرٹی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بڑھتے ہوئے مالی تضاد اور جمہوری اقدار کی کمی کے ساتھ ساتھ سیاسی تنازعات شامل ہیں۔

سنہ انیس سو ستانوے تک ہانگ کانگ برطانیہ کے زیرِ انتظام تھا۔ البتہ چین کو منتقلی کے بعد اسے قدرے زیادہ خود مختاری دی گئی ہے تاہم چین کے کومیونسٹ رہنماء ہانگ کانگ میں مکمل طور پر جمہوری نظام نافذ کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔