یورپی پابندیاں اور ایران پر ان کا اثر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 1 جولائ 2012 ,‭ 14:52 GMT 19:52 PST

کچھ یورپی ممالک کےلیے ایران کے تیل سے ہاتھ کھینچ لینا اتنا آسان نہیں

امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے ایران کی تیل کی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں تیز تر ہوتی جا رہی ہیں اور ان کوششوں کے ایران پر پڑنے والے اثرات کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کی تیل کی برآمدات دس لاکھ بیرل روزانہ رہ گئی ہیں جو کہ سنہ دو ہزار گیارہ کی اوسط شرح سے چالیس فیصد کم ہیں۔

اسی طرح تیل کی فروخت سے ایران کو حاصل ہونے والی آمدن کو بھی نقصان پہنچا ہے تاہم ابھی تک ایسے اشارے نہیں ملے کہ ایران ان پابندیوں کی وجہ سے اپنے جوہری پروگرام پر نظرِ ثانی کا ارادہ رکھتا ہے۔

یکم جولائی سے ایران کے خلاف یورپی پابندیاں نافذ ہو رہی ہیں جن کے تحت یورپی یونین میں شامل کوئی ملک ایران سے خام تیل درآمد نہیں کر سکتا۔ ان پابندیوں سے قبل ایران کے بین الاقوامی منڈی میں فروخت کیے جانے والے تیل کا تیئیس فیصد یورپی ممالک خریدتے تھے۔

یورپی پابندیوں کو جو چیز زیادہ موثر بناتی ہے وہ یہ کہ ان کے نفاذ کے بعد کوئی یورپی کمپنی ایرانی تیل یا پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت یا نقل و حمل کے لیے مالیاتی یا انشورنس کی خدمات فراہم نہیں کر سکے گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کئی ایسی جہازراں کمپنیاں جن کے ٹینکر لندن میں رجسٹرڈ ہیں، انہیں یا تو متبادل انتظامات کرنا ہوں گے یا ایرانی تیل اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی باربرداری ترک کرنا ہوگی۔

ان یورپی پابندیوں سے قبل امریکہ ایرانی تیل کے بڑے خریداروں کو قائل کرنے کی کوششیں کر چکا ہے کہ وہ کم مقدار میں یہ تیل خریدیں۔

چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا نے حالیہ چند ماہ میں ایران سے تیل کی خریداری کم کی ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا تو جولائی سے ایران سے تیل کی خریداری بند کرنے والا ہے۔

"ایرانی خام تیل کے بڑے درآمد کنندگان اٹلی اور یونان تھے اور ان دونوں کو مسائل کا سامنا ہے۔خصوصاً یونان بری طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ اسے جن آسان شرائط پر ایرانی تیل مل رہا تھا ان پر کوئی اور تیل دینے کو تیار نہیں ہوگا۔"

پروفیسر سٹیونز، چیتھم ہاؤس

امریکی پابندیوں میں ان ممالک کے مالیاتی اداروں پر پابندیوں کی دھمکی بھی موجود ہے جو امریکہ کی نظر میں ایرانی تیل پر انحصار کو کم کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے۔ اسی وجہ سے ایران کے تیل کے متبادل کی تلاش زوروشور سے جاری ہے۔

تاہم کچھ یورپی ممالک کےلیے ایران کے تیل سے ہاتھ کھینچ لینا اتنا آسان نہیں۔ برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے سینیئر محقق پروفیسر پال سٹیونز کا کہنا ہے کہ’ایرانی خام تیل کے بڑے درآمد کنندگان اٹلی اور یونان تھے اور ان دونوں کو مسائل کا سامنا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’خصوصاً یونان بری طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ اسے جن آسان شرائط پر ایرانی تیل مل رہا تھا ان پر کوئی اور تیل دینے کو تیار نہیں ہوگا‘۔

پروفیسر سٹیونز کو خدشہ ہے کہ ایران کے تیل پر پابندیوں کا اثر اس سے کہیں زیادہ ہوگا جتنا کہ اب دکھائی دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندی سے تقریباً سارے یورپ پر اثر پڑا ہے۔’پابندیوں سے پوری یورپی یونین متاثر ہوئی ہے کیونکہ اس اعلان کے ساتھ ہی عالمی بازار میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھیں‘۔

سو اب سوال یہ ہے کہ نئی یورپی پابندیوں کے نفاذ سے بھی کیا تیل کی قیمتوں پر اثر پڑے گا؟

پروفیسر سٹیونز کہتے ہیں ’ابتدائی طور پر تو معمولی اثر ہوگا کیونکہ بازار ان پابندیوں کے اعلان کے وقت ان کا اثر محسوس کر چکا ہے‘۔

ان کے مطابق ’اصل اثر ایران کے ردعمل پر سامنے آئے گا تاہم مجھے کچھ زیادہ کی امید نہیں‘۔

غور طلب بات یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی پابندیوں سے ایرانی معیشت پر تو یقیناً اثر پڑے گا لیکن یہ سیاسی طور پر اثرانداز ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔

"یورپی یونین کی پابندیاں اس لیے اہم نہیں کہ ان سے ایران پر کتنا دباؤ پڑے گا بلکہ ان کی اہمیت اس حوالے سے ہے کہ یہ اس سلسلے میں ایک سنگِ میل ہے کہ پابندیوں کا مطلوبہ اثر نہیں پڑ رہا۔"

نائیجل کشنر

پابندیوں کے معاملے کے ماہر اور برطانوی فرم سے وابستہ وکیل نائیجل کشنر کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی پابندیاں اس لیے اہم نہیں کہ ان سے ایران پر کتنا دباؤ پڑے گا بلکہ ان کی اہمیت اس حوالے سے ہے کہ ’یہ اس سلسلے میں ایک سنگِ میل ہے کہ پابندیوں کا مطلوبہ اثر نہیں پڑ رہا‘۔

ان کے خیال میں یورپی یونین نے ایران کے سر پر پابندیوں کی تلوار اسے بات چیت پر آمادہ کرنے کے لیے لٹکائی تھی لیکن یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔

نائیجل کشنر کا کہنا ہے کہ ایران یورپی پابندیوں سے زیادہ اپنے خریداروں پر امریکی دباؤ سے خائف ہے اور اب خطرہ یہ ہے کہ اس تنازع کی وجہ سے اگر خطے میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا بالواسطہ فائدہ بھی ایران کو ہی ہوگا۔

کئی تجزیہ کاروں کے خیال میں خطے میں بڑھتا تناؤ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری بات چیت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک تجزیہ کار تریتا پارسی کا کہنا ہے کہ اب سفارتکاری آخری دموں پر ہے اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ اس موسمِ گرما میں خلیج کے علاقے کا سیاسی اور علاقائی ماحول کتنا گرم رہتا ہے؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔