امریکہ میں طوفان، لاکھوں شہری بجلی سے محروم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طوفان سے گلیوں اور شاہراہوں پر کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے

امریکی دارالحکومت واشنگٹن اور اس کے نواح میں آنے والے شدید طوفان کے بعد تقریباً تیس لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

حکام کے مطابق طوفان سے مختلف علاقوں میں بارہ افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

مقامی سطح پر ’دریچو‘ کے نام سے پہچانے جانے والے اس طوفان میں گرج چمک کے ساتھ انتہائی تیز ہوائیں بھی چلیں۔ اطلاعات کے مطابق طوفان میں گرنے والے اولوں کا حجم ایک انچ کے قریب تھا۔

طوفان کے بعد ریاست کے مختلف علاقے ٹوٹے ہوئے درختوں اور ٹہنیوں سے بھر گئے ہیں اور جگہ جگہ بجلی کی تاریں گری ہوئی ہیں۔

بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ایئرکنڈیشنگ کے نظام کام نہیں کر رہے جبکہ علاقے میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ گرمی کی حالیہ لہر میں تاریخی حد تک درجہِ حرارت (چالیس ڈگری سینٹی گریڈ) ریکارڈ کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہِ موسمیات کے مطابق گرمی کی یہ لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہے گی اور خبردار کیا گیا ہے کہ موسم مزید خراب ہو سکتا ہے۔

مغربی ورجینیا کی ریاست میں پانچ لاکھ افراد کی بجلی منقطع ہونے کے بعد ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہا ہے کہ اس طوفان سے ورجینیا میں چھ، نیو جرسی اور میری لینڈ میں دو دو جبکہ اوہایو اور واشنگٹن ڈی سی میں ایک ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

بجلی کی کمپنیاں رسد کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں تاہم پانی کے فلٹریشن پلانٹوں کو بجلی نہ پہنچنے کی وجہ سے چند علاقوں میں پانی کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

واشنگٹن کے نواحی علاقوں میں شہریوں کو کہا گیا ہے کہ ہنگامی حالات میں فائر بریگیڈ یا پولیس کے دفاتر میں جا کر اطلاع یا پھر غیر ہنگامی فون نمبروں کا استعمال کریں کیونکہ نائن ون ون کے ہنگامی فون نمبر کے مراکز میں بھی بجلی موجود نہیں۔

واشنگٹن کے ٹرانزٹ حکام کا کہنا تھا کہ جمعہ کی رات طوفان کی وجہ سے تقریباً تمام گاڑیوں کی سروس کو رکنا پڑا تاہم اب بیشتر گاڑیوں کی آمدورفت بحال کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں