ہانگ کانگ: جمہوریت کی حمایت میں احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہانگ کانگ کے عوامی مسائل میں پراپرٹی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بڑھتے ہوئے مالی تضاد اور جمہوری اقدار کی کمی کے ساتھ ساتھ سیاسی تنازعات شامل ہیں

برطانیہ کی سابق کالونی ہانگ کانگ کے انتظامی امور کی چین کو منتقلی کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر جمہوریت کے حامی ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

ہانگ کانگ میں ہر سال حقوق انسانی کے حوالے سے احتجاجی جلوس نکالا جاتا ہے لیکن رواں برس چین کے خلاف غصے میں اضافے کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں میں شدت آئی ہے۔

اس سے پہلے چینی صدر ہو جنتاؤ نے کاروباری شخصیت سی وائے لیونگ سے ہانگ کانگ کے نئے سربراہ کا حلف لیا اور انہوں نے ہانگ کانگ کی جزوی خودمختاری برقرار رکھنے کے عزم کی تائید کی۔

اس موقع پر ہانگ کانگ کی سڑکوں پر جمہوریت کے حامی ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔

مظاہرین ڈھول بجاتے اور جھنڈے لہراتے ہوئے مکمل جمہوریت اور چین کے بارے میں اپنی مایوسی کا اظہار کر رہے تھے۔

ہانگ کانگ میں بی بی سی کی نامہ نگار جولیانہ لوئی کے مطابق احتجاجی مظاہرہ ایک میلے کا سماں پیش کر رہا تھا، جس میں سیاسی جماعتوں کے کارکن نعرے بازی کر رہے تھے جبکہ سول سوسائٹی کی تنطیموں کے کارکن گانے گا رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔

احتجاجی مظاہرے میں اہلخانہ کے ساتھ حصہ لینے والی ایلین موک نے بی بی سی کو بتایا کہ’ ہم انصاف کے لیے لڑائی کر رہے ہیں، ہم قانون کی حکمرانی کے لیے لڑ رہے ہیں، چینی حکومت ہانگ کانگ کی حکومت کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ’ ہم اپنے ووٹ کا حق مانگ کر رہے ہیں اور اس کو اب ہو جانا چاہیے۔‘

مظاہروں کی ایک اہم وجہ وہ نظام ہے جس سے ہانگ کانگ کے سربراہ کو چنا جاتا ہے۔ شہر کے سربراہ کا انتخاب بارہ سو ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی کرتی ہے جس میں زیادہ تر چین کی حمایت کرنے والی کارروباری شخصیات اور دیگر بااثر شہری شامل ہوتے ہیں۔

ہانگ کانگ کے کئی رہائشیوں کا خیال ہے کہ یہ نظام چین کی پسند کے رہنمائوں کو ہی منتخب کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہانگ کانگ کے کئی رہائشیوں کا خیال ہے کہ یہ نظام چین کی پسند کے رہنمائوں کو ہی منتخب کرتا ہے

اس سے پہلے ہانگ کانگ میں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ مرکزی تقریب کی سربراہی چین کے صدر ہو جنتاؤ نے کی۔

سنیچر کو دورے کے دوران چینی صدر کو مظاہرین محفوظ رکھنے کے لیے پولیس نے ’پیپر سپرے‘ کا استعمال کیا۔

سنیچر کو مظاہروں میں مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن لی وینیینگ کی ہلاکت کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا۔

نامہ نگار کا کہنا تھا کہ یہ دورہ صدر ہو جنتاؤ کے پانچ سال پہلے کے دورے سے بہت مختلف ہے۔ اُس وقت اولمپک مقابلوں کے آغاز سے قبل خوشی کا سماں تھا جبکہ اس بار وہ ایک ایسے وقت پر آئے ہیں جب شہر کے رہائشیوں میں چینی حکومت پر اعتماد کی شدید کمی ہے۔

عوامی مسائل میں پراپرٹی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بڑھتے ہوئے مالی تضاد اور جمہوری اقدار کی کمی کے ساتھ ساتھ سیاسی تنازعات شامل ہیں۔

سنہ انیس سو ستانوے تک ہانگ کانگ برطانیہ کے زیرِ انتظام تھا۔ البتہ چین کو منتقلی کے بعد اسے قدرے زیادہ خود مختاری دی گئی ہے تاہم چین کے کیمونسٹ رہنماء ہانگ کانگ میں مکمل طور پر جمہوری نظام نافذ کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں