’جل پریوں کی موجودگی کے کوئی آثار کبھی نہیں ملے‘

جل پری تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ’جل پریوں کی تصاویر اور کہانیاں پوری دنیا کی تاریخ میں مصوری اور روائتی قصوں میں موجود ہیں‘

امریکی حکومت کی سائنسی ایجنسی کا کہنا ہے کہ جل پریوں کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

یہ غیر متوقع اعلان نیشنل اوشن سروس نے جل پریوں پر ایک ٹی وی پروگرام کے بعد کیا جس پر ان سے بہت سے لوگوں نے وضاحت طلب کی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس ٹی وی پروگرام کو ایک دستاویزی فلم سمجھ لیا تھا۔ حکومتی ایجنسی نے آن لائن پر اعلان کرتے ہوئے لکھا ’جل پریوں کی موجودگی کے کوئی آثار کبھی نہیں ملے۔‘

حکومتی ایجنسی نے اپنی ویب سائٹ پر موجود تعلیمی صفحے پر لکھا ہے ’جل پریوں کی تصاویر اور کہانیاں پوری دنیا کی تاریخ میں مصوری اور روائتی قصوں میں موجود ہیں۔‘

ایجنسی کی ترجمان کیرل کیوانغ نے بی بی سی کو بتایا کہ جل پریوں کی حقیقت کی تردید کے لیے لکھے گئے مضمون میں عام لوگوں کو دستیاب معلومات میں سے حاصل کی گئی ہیں کیونکہ ہمارا جل پریوں پر تحقیق کرنے کا کوئی خاص پروگرام نہیں ہے۔‘

کیرل نے بتایا کہ کم از کم دو افراد نے ایجنسی کو لکھ کہ جل پریوں کی حقیقت کی ثضاحت طلب کی ہے۔

لوگوں کی جانب سے سوالات کا آغاز ڈسکوری کے چینل اینیمل پلینٹ پر دکھائے گئے پروگرام ’جل پریاں: لاش مل گئی‘ کے بعد آئے۔

ڈسکوری کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام حقیقت پر مبنی نہیں تھا لیکن اس پروگرام کو اس طرح عکس بند کیا تھا کہ لوگوں کو یہ سائنسی تعلیمی شو لگا۔