مسلمان گرجا گھروں کی حفاظت کریں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Associated Press
Image caption گریسا میں عیسائی برادری کے تقریباً تیس گرجا گھر ہیں

افریقی ملک کینیا میں مسلمان رہنماؤں نے عیسائی برادری کے گرجا گھروں کی حفاظت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرجا گھروں کی حفاظت کے لیے نوجوان مسلمانوں کے گروپ بنائے جائیں گے۔

یہ فیصلہ کینیا میں گرجا گھروں پر حملوں کے واقعات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ صومالیہ کی سرحد سے متصل شہر گاریسا میں گرجا گھروں پر حملوں میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس علاقے میں اس وقت سے حالات کشیدہ ہیں جب سے کینیا نے اپنی سکیورٹی فورسز کو صومالیہ میں سرگرم اسلامی شدت پسند تنظیم الشباب کے خلاف کارروائی کے لیے بھیجا ہے۔

کینیا میں مسلمانوں کی سپریم کونسل کے سربراہ عدنان واچو نے بی بی سی کو بتایا کہ گرجا گھروں پر حملے دہشت گردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’ وہاں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو کینیا کو دوسرا نائجیریا بنانا چاہتے ہیں، ان لوگوں کو ملک میں مذہبی تقسیم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

عدنان واچو کے مطابق بدھ کو کینیا میں مذہبی ہم آہنگی سے متعلق کونسل کے اجلاس میں اتفاق رائے سے طے کیا گیا کہ گرجا گھروں پر حملے’ دہشت گردی کے واقعات اور یہ دہشت گردوں کا کام ہے۔‘

اجلاس میں شریک تمام رہنماؤں نے مل کر اس مسئلے سے نمٹنے پر اتفاق کیا ہے۔

’اظہار یکجہتی کے طور پر نوجوان مسلمان نہ صرف گاریسا میں گرجا گھروں کی نگرانی کریں گے بلکہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ایسا کیا جائے گا جہاں عیسائی برادری کو خطرہ ہو گا۔‘

عدنان واچو کے مطابق اب یہ مسلمان رہنماؤں پر منحصر ہے کہ وہ گاریسا میں تقریباً تیس گرجا گھروں کی حفاظت کے لیے کس طرح کے اقدامات کرتے ہیں۔

’مسلمانوں نے محسوس کیا کہ علاقے میں عیسائی برادری اقلیت میں ہے اور ان کی حفاظت ہر ممکن طریقے سے کی جانی چاہیے۔‘ گاریسا میں عیسائی برادری اقلیت میں ہے جب کہ سنی فرقے کے مسلمان اکثریت میں ہیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں کینیائی سکیورٹی فورسز نے صومالیہ میں شدت پسند تنظیم الشباب کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور اس کے بعد سے الشباب کے شدت پسندوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ کینیا میں اغواء کے واقعات میں ملوث ہیں اور سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں