شام: اپوزیشن اختلافات دور کرنے میں ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ s
Image caption بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اپوزیشن میں اختلافات کی وجہ سے شام میں اس کے حامیوں میں مایوسی بڑھے گی

شام میں حزب مخالف کی جماعتوں نے ملک میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے ایک عام منصوبے پر اتفاق کیا ہے جس سے حزب اختلاف میں پائے جانے والے اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں شام کی حزب اختلاف کے اجلاس طے ہوا کہ اقتدار کی منتقلی کے دوران کیا لائحہ عمل ہوگا اور اگر شامی صدر کو اقتدار سے الگ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس صورت میں کیا جائے گا۔

اجلاس میں حزب اختلاف کے رہنما بین الاقوامی طاقتوں سے بات چیت کے لیے ایک ہم خیال کمیٹی بنائے جانے کے حوالے سے کسی متفقہ سمجھوتے پر نہیں پہنچ سکے۔

دریں اثناء شام میں حقوق انسانی کی صورتحال پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق شام میں بدھ کو پرتشدد واقعات میں مزید سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جون لیون کے مطابق اجلاس میں حزب اختلاف کھلم کھلا منقسم تھی اور اس صورت میں یہ کہنا مشکل ہو گا کہ اجلاس میں کوئی سمجھوتہ پایا یا نہیں۔

اجلاس کے بعد حزب اختلاف کے رہنما کمال ال لیبونائی کی جانب سے ایک بیان پڑھ کر سنایا گا۔

بیان کے مطابق’ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ سیاسی حل شروع ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ شامی حکومت سے پرتشدد واقعات کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

ایک دوسری دستاویز میں شرکاء نے ایک منتقلی اقتدار کے مرحلے میں ایک عبوری حکومت اور پارلیمان کی تشکیل کا منصوبہ طے کیا گیا۔ ان اقدامات کا مطالبہ عالمی طاقتوں کی نمائندگی کرنے والے والی تنظیم ایکشن گروپ فار سیریا نے کیا تھا۔

اس کے علاوہ شامی فوج میں کس طرح اصلاحات کی جائیں گی، شامی عوام کے خلاف جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کا قیام، موجودہ حکمران جماعت بعث پارٹی کو تحلیل کرنا، اور بعث پارٹی کے ان رہنماوں کو ملکی معالات چلانے میں شریک کیا جائے گا جن کے ہاتھ خون میں رنگے نہیں ہونگے۔

دوسری دستاویز کے مطابق صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام میں طرز حمکرانی’ جمہوریت پسند، سویلین اور کثرت پسندانہ‘ ہو گا۔اس کے علاوہ ان کو سماجی انصاف اور معیشت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

تاہم اجلاس میں لیبیا کی عبوری کونسل کی طرز پر ایک کمیٹی کی تشکیل اور اس کو عالمی طاقتوں سے بات چیت کے اختیار دینے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

اطلاعات کے مطابق شام میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت’سیرین نیشنل کونسل‘ نے اصرار کیا کہ لیڈر شپ اختیارات کے بغیر یہ عمل تنہا ہی ایک کوارڈینشن کمیٹی کے طور پر ہونا چاہیے۔

اجلاس سے ایک کرد جماعت کے احتجاجاً نکل جانے کے وقت دھکم پیل ہوئی، پنچ مشینیں پھینکی گئیں اور خاتون نے رونا شروع کر دیا۔

اجلاس کے دوران کرد جماعت نے یہ مطالبہ کیا کہ آیا ان کو شام میں اقلیت تسلیم کیا جائے گا۔

جس وقت کرد جماعت اجلاس چھوڑ کر نکلی تو اس وقت اجلاس کے بعض شرکا نے سکینڈل، سکینڈل کے نعرے لگائے جبکہ ایک نوجوان کارکن نے کرد جماعت پر الزام عائد کیا کہ’ کانفرس کو ناکام بنانے کے لیے یہ جعلی بائیکاٹ کیا گیا۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں شام میں حزب اختلاف اور ملک کے باہر موجود حمامیوں میں مایوسی بڑھے گی اور اس کا فائدہ صدر بشار الاسد کو پہنچے گا۔

اسی بارے میں