دبئی: غیر ملکیوں کے غلط پہناوے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دبئی کے ایک شاندار شاپنگ مال میں سنیچر کی ایک دوپہر کو میں اپنی ایک دوست سے چائے پر ملنے والی تھی۔

میں نے ایک پھولوں کے عکس والا مغربی طرز کا لباس پہن رکھا تھا جو میرے گھٹنوں سے ذرا نیچے تک جاتا تھا اور اپنے کندھوں کو ڈھاپنے کے لیے میں نے ایک ہلکا سا سوئیٹر لپیٹا ہوا تھا۔

شدید گرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے دبئی کے شاپنگ مالوں میں ایئرکنڈیشنر کافی تیزی سے چلائے جاتے ہیں۔

میں اپنی دوست کے انتظار میں چند دکانیں گھوم رہی تھی جب مجھے احساس ہوا کہ قریب ہی ایک خاتون مجھے گھور رہی ہیں۔

سیاہ رنگ کے روایتی برقعے میں ملبوس اس خاتون کی مجھے صرف آنکھیں ہی نظر آ رہی تھیں اور وہ ٹکٹکی باندھے مجھ پر مرکوز تھیں۔

میں حال ہی میں دبئی منتقل ہوئی تھی اور اس وقت تک حالات کافی پر سکون رہے تھے۔ لوگ ساحل پر جا کر دھوپ سینکتے ہیں اور غیر ملکیوں کے لیے شراب پینا بھی ٹھیک ہی سمجھا جاتا ہے لیکن مجھے گھورا جا رہا تھا اور مجھے احساس ہوا کہ مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے۔

میں سوچنے لگی کہ میں ایک مغربی لباس پہن کر باہر کیوں آگئی۔ وہ خاتون مجھے گھورتی رہیں اور میری الجھن بڑھتی رہی۔ وہ اپنے شوہر کی جانب مڑیں اور کچھ کہا۔ پھر وہ دونوں مجھے گھورنے لگے۔

میاں بیوی نے آپس میں کچھ کہا اور آہستہ سے میرے پاس آ کر بولے ’آپ نے یہ لباس کہاں سے خریدا ہے؟‘ اور ساتھ ہی انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے داد دیتے ہوئے کہا ’یہ بہت خوبصورت ہے، اور ہمیں پسند آیا ہے‘

میرے لباس کو تو منظوری مل گئی تاہم تمام غیر ملکیوں کی ایسی تائید نہیں ہو رہی۔ گزشتہ چند ہفتوں میں لوگوں کے تیراکی کے کپڑوں میں گھومنے کی افواہیں سامنے آتی رہیں ہیں۔

غیر ملکیوں کے مقامی ثقافت کو اس طرح نظر انداز کرنے سے تنگ آ کر دو نوجوان خواتین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک مہم شروع بھی کی ہے۔

’یو اے ای ڈریس کوڈ‘ نامی اس مہم کا مقصد غیر ملکیوں کو عوامی مقامات پر شائستہ لباس پہننے کی ہدایت کرنا ہے۔

اس مہم میں سینکڑوں افراد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایک شخص نے ملبوسات کے سلسلے میں ایک خصوصی پولیس بنانے کی تجویز دی جہاں شکایات درج کروائی جا سکیں گی۔

تئیس سالہ اسماء نے یہ مہم اپنی ایک دوست کے ساتھ شروع کی۔ اپنے گھر کے نجی ماحول میں قدرے غیر قدامت پسند لباس پہنے انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور بتانے لگیں کہ انہوں نے یہ مہم کیوں شروع کی تھی۔

’جس طرح کچھ لوگ یہاں لباس اوڑھنے لگے ہیں وہ ہمارے عقائد کے منافی ہے۔ شاپنگ مال عوامی مقامات ہیں جہاں اہلِ خانہ اور بچے ہوتے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ دھوپ میں پہننے کا لباس سمندر کی سیر کے لیے ٹھیک ہے، شاپنگ کے لیے نہیں۔

دبئی میں تمام شاپنگ کے مراکز کے دروازوں پر نوٹس لگائے گئے ہیں جو صارفین کو کندھے اور گھٹنے ڈھانپنے کی ہدایت کرتے ہیں لیکن اسماء کے خیال میں یہ ناکافی ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ پہنے اوڑھنے کے ضوابط کی پاسداری کے لیے ایک قانون بنایا جائے۔

محاورہ ہے کہ جب روم جاؤ تو رومیوں جیسا برتاؤ کرو۔ مگر روم میں رومی اکثریت میں ہیں اور یہاں متحدہ عرب امارات میں امراتی تو اقلیت ہیں اور وہ اسی لاکھ رہائشیوں کا صرف بیس فیصد ہیں۔

چنانچہ حکومت کو ایک نازک توازن برقرار رکھنا ہے جس میں مقامی افراد کا بھی خیال رکھا جائے اور زیادہ قوانین سے سیاحت اور تجارت کو بھی نقصان نہ ہو۔

پھر یہاں ایک اور بھی معاملہ ہے اور وہ ہے سیاست۔ اگرچہ عرب امارات پر عرب دنیا کی علاقائی سیاسی کشیدگی سے کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑا جس کی ایک وجہ شہریوں کے لیے فراخ دل قسم کا فلاحی نظام بھی ہے تاہم حکومت ارد گرد کے ماحول سے بخوبی واقف ہے۔

احمد منصور جمہوریت کے حامی ایک بلاگر اور کارکن ہیں جنہیں حکومت پر تنقید کی وجہ سے پچھلے سال تھوڑا وقت سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملبوسات کی مہم کا شاید کوئی سیاسی تناظر نہیں لیکن حکومت اس پر کوئی قانون اس لیے بھی نہیں بنانا چاہتی تاکہ قدامت پسند عناصر کو کہیں یہ محسوس نہ ہو کہ ان کے خیالات کو وزن دیا جا رہا ہے۔

علاقائی سطح پر یہ ایک مشکل وقت ہے اور حکومت کو ایک نفیس صف پر چلنا ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے حصوں میں مذہبی رجحان بڑھ رہا ہے اور شاید اسلامی عقائد کا احترام کرنے پر یہاں بات ہونا اہم ہے۔

اسی بارے میں