اوباما کا ناشتہ آخری ناشتہ ثابت ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ستر سالہ جوزفین حارث نےصدر اوباما کو ناشتہ مہیا کیا اور پھر انہیں گلے لگایا

امریکی ریاست اوہائیو میں ایک ریسٹورنٹ کی مالکن انتخابی مہم پر نکلے ہوئے امریکی صدر براک اوباما کو ناشتہ دینے کے چند گھنٹوں بعد دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئیں۔

صدر اوباما صبح ساڑھے آٹھ بجے ستر سالہ جوزفین کے ریسٹورنٹ پر آئے اور بیکن ،ٹوسٹ پر دو انڈوں کا آرڈر دیا۔

جوزفین حارث نے اپنے خاص گاہک کو خود ناشتہ مہیا کیا اور مقامی اخبار کے مطابق وہ صدر اوباما سے بغلگیر بھی ہوئیں۔

صدر اوباما کے وہاں سے روانہ ہونے کے چند گھنٹوں بعد جوزفین حارث بیمار ہوگئیں اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ ہسپتال جاتے ہوئے انہیں دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

سمٹ کونٹی کے میڈیکل ایگزیمینر نے کہا ہے کہ جوزفین حارث کی موت قدرتی حالات کی وجہ سے ہوئی اور ان کا پوسٹمارٹم نہیں کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جے کارنی نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما نے جوزفین حارث کی بیٹی کو فون کرکے ان کی ماں کی وفات پر صدمے کا اظہار کیا ہے۔