ٹوکیو میں افغانستان کے لیے امدادی کانفرنس

تصویر کے کاپی رائٹ foreign policy
Image caption ملک میں بدعنوانی اور کرپشن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے:حامد کرزئی

دو ہزار چودہ میں غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کی مالی امداد کے معاملے پر بات چیت کے لیے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں اتوار کو عالمی کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے۔

اس عالمی کانفرنس کا مقصد انخلاء کے بعد افغانستان کی تعمیرِ نو اور ترقی کا نقشۂ راہ طے کرنا ہے۔

کانفرنس میں شرکت کے لیے ٹوکیو پہنچنے والے مندوبین کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ اس اجلاس میں افغانستان کے لیے سولہ ارب ڈالر کی امداد پر اتفاقِ رائے میں کامیاب رہیں گے۔

اس کانفرنس میں امریکہ اور پاکستان سمیت اسّی ممالک اور عالمی تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کو امداد دینے کے خواہاں ممالک وہاں رشوت ستانی اور بدعنوانی سے خائف ہیں۔

ایسے خدشات بھی ظاہر کیے جاتے رہے ہیں کہ افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادوں کے سنہ دو ہزار چودہ میں انخلاء کے بعد یہ ملک دوبارہ شدت پسندوں اور منشیات کا کاروبار کرنے والے قبائلی سرداروں کے قبضے میں جا سکتا ہے۔

اجلاس کے آغاز پر اپنے خطاب میں بھی افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو اب بھی سنگین خطرات درپیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیامِ امن، اسے مستحکم بنانے اور وہاں تعمیرِ نو کی کوششیں بیرونی امداد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

حامد کرزئی نے وعدہ کیا کہ وہ ملک میں بدعنوانی اور کرپشن کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے کیونکہ یہ افغان اداروں کے لیے تباہ کن ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روزگارکی فراہمی، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری افغانستان کی سب سے بڑی ضروریات ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنی تقریر میں کہا کہ نیٹو کے انخلاء کے بعد اگر افغان معاشرے کی مناسب امداد نہ کی گئی تو ایک دہائی کے دوران دی جانے والی جانی و مالی قربانیاں رائیگاں چلی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ، انصاف، حقوقِ انسانی، روزگار اور سماجی ترقی کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں ناکامی گزشتہ دس برس کے دوران کی گئی سرمایہ کاری اور دی گئی قربانیوں پر پانی پھیر دے گی‘۔

امریکی وزیرِ خارجہ کے ہمراہ ٹوکیو پہنچنے والے ایک امریکی افسر کے مطابق کانفرنس کے شرکاء سنہ دو ہزار بارہ سے سنہ دو ہزار پندرہ تک افغانستان کو سالانہ چار ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کریں گے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی عالمی برادری سے سکیورٹی اخراجات کے علاوہ چار ارب ڈالر سالانہ امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

رواں برس مئی میں مریکی شہر شکاگو میں منعقدہ افغان سکیورٹی کانفرنس میں نیٹو کی زیرِ قیادت اتحادی ممالک پہلے ہی افغانستان کی سکیورٹی کے لیے سالانہ چار ارب دس کروڑ ڈالر کی امداد کی فراہمی پر اتفاق کیا تھا۔

افغانستان کے مرکزی بینک کے اندازوں کے مطابق افغانستان کو عوامی ترقیاتی امداد کی مد میں سالانہ چھ سے سات ارب ڈالر درکار ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق ٹوکیو کانفرنس کے شرکاء دو ہزار پندرہ سے افغانستان میں ’تبدیلی کے عشرے‘ کے لیے ایک ڈھانچہ تیار کریں گے جس کی بنیاد باہمی احتساب پر ہوگی یعنی افغانستان کو اسی شرط پر امداد دی جائے گی کہ وہ ملک میں پھیلی بدعنوانی پر قابو پائے۔

خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے سنیچر کو کابل کے غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان کو امریکہ کا اہم غیر نیٹو اتحادی قرار دیا ہے۔

اس سے قبل یہ حیثیت آسٹریلیا، مصر اور اسرائیل کو حاصل تھی۔ اس حیثیت میں ان ممالک کو امریکی ہتھیاروں کی برآمد اور دفاعی تعاون حاصل ہوتا ہے۔

اسی بارے میں