امریکہ:گرمی کی لہر، بیالیس افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کئی شہروں میں سوئمنگ پولوں میں عوام کے لیےاستعمال کے اوقات میں اضافہ کیا گیا ہے

امریکہ کے مشرقی ساحل تا وسطی امریکہ کی کئی ریاستیں ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق گرمی کی اس لہر میں بیالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شدید گرمی کی وجہ سے کھڑی فصلیں جھلس گئی ہیں اور ریل کی پٹریوں کو بھی کئی مقامات پر نقصان پہنچا ہے۔

گرمی کی اس لہر کے بعد ان علاقوں میں طوفان کی پیش گوئی کی گئی ہے جب کہ بہت سے علاقوں میں گزشتہ ہفتے آنے والے طوفان کی وجہ سے ابھی تک بجلی کی سپلائی منقطع ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق گرمی میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عمر رسیدہ افراد شامل ہیں جو کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے گھروں میں ایئر کنڈیشنر استعمال نہ کر سکے۔

گرمی کی شدت سے دس ہلاکتیں امریکی شہر شکاگو، دس ریاست مریلینڈ اور دس ورجینہ میں ہوئیں۔ اوہیو، پینسلوینہ اور وسکناسن میں نو اور دو افراد ٹینیسی میں ہلاک ہوئے۔

ریاست انڈی ئینا میں ایک چار ماہ کی بچی جسے کچھ دیر کے لیے گاڑی میں چھوڑ دیا گیا تھا شدید گرمی کی وجہ سے دم توڑ گئی۔

ہفتے کو واشنگٹن میں درجہ حرارت اکتالیس سینٹی گریڈ اور سینٹ لوئس اور میزوری میں چھیالس سنیٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

کئی شہروں میں سوئمنگ پولوں میں عوام کے لیےاستعمال کے اوقات میں اضافہ کیا گیا ہے۔

ادھر بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کے رفریجیریٹر نہیں چل رہے اور اشیاء خوردونوش خراب ہوگئی ہیں۔ کئی جگہ پر ایسے شہریوں کے لیے کھانے کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔

شکاگو میں حکام نے اکیس عمارتوں میں گرمی کی وجہ سے موسمِ گرما کی کلاسیں منسوخ کر دیں ہیں۔

اسی بارے میں