فرانس: قاتل کی گفتگو نشر ہونے پر اشتعال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مراح کی گفتگو ایسے وقت میں نشر کی گئی ہے جب یہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے

فرانسیسی پولیس نے سات افراد کو ہلاک کرنے والے فرانسیسی باشندے محمد مراح اور پولیس کے درمیان ہونے والی گفتگو ایک ٹی وی چینل پر نشر کیے جانے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

الجیریائی نژاد فرانسیسی شہری محمد مراح نے ملک کے جنوب مغربی شہر تولوز میں گیارہ سے انیس مارچ کے دوران تین فوجیوں اور چار یہودیوں کو ہلاک کیا تھا۔

بعدازاں پولیس نے تولوز میں ہی واقع ان کےگھر کا محاصرہ کر لیا تھا اور بتیس گھنٹے چلنے والی کارروائی میں انہیں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

منظرِ عام پر آنے والی گفتگو اسی محاصرے کے دوران ریکارڈ ہوئی تھی اور اسے ٹی ایف ون چینل نے نشر کیا ہے۔

تیئیس سالہ مراح کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کے وکلاء کے مطابق لواحقین یہ گفتگو نشر ہونے پر ناخوش ہیں۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ مینول والز نے ٹی ایف ون کی طرف سے پولیس اور مراح کے درمیان ہونے والے مذاکرات نشر کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ مرنے والے افراد کے لواحقین کی توہین ہے۔

انھوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ یہ گفتگو ایسے وقت میں نشر کی گئی ہے جب یہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

ہلاک شدگان کے لواحقین کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ مزید ریکاڈنگ نشر ہونے سے روکنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک وکیل سامعہ مکتوف نے کہا کہ ’پولیس اور مراح کے مذاکرات ٹی وی پر نشر ہونے سے مقتولین کے لواحقین سخت غصے میں ہیں‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اس طرح تو ہلاکتوں کی ویڈیوز بھی انٹرنیٹ پر آ جائیں گی اور یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہوگا‘۔

مراح نے اپنے سینے پر باندھے ہوئے کیمرے کے ذریعے اپنے قاتلانہ حملوں کی وڈیو ریکارڈنگ کی تھی جو الجزیرہ ٹی وی کو موصول ہوئی تھی لیکن انھوں اسے نہ خود نشر کرنے اور نہ کسی اور چینل کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

ٹی ایف ون پر نشر ہونے ولے ایک ِآڈیو کلپ میں مراح مذاکرات کاروں سے کہتے ہیں ’مجھے پتہ ہے کہ آپ مجھے ہلاک کر سکتے ہیں لیکن میں یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ آپ ایک ایسے شخص کا سامنا کر رہے ہیں جسے موت کا کوئی خوف نہیں۔ میں اسی طرح موت سے محبت کرتا ہوں جس طرح آپ زندگی سے محبت کرتے ہیں‘۔

یہ سمجھا جاتا ہے کہ ٹی ایف ون کے پاس تقریباً چار گھنٹوں کی ریکارڈنگ موجود ہے جس میں مراح نے پاکستان میں القاعدہ کے ساتھ رابطوں کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

ٹی ایف ون کے پروگرام پروڈیوسر امینول چین نے ریکارڈنگ میں موجود خبریت کی بنیاد پرگفتگو نشر کرنے کے فیصلہ کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ’ہم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے‘۔

.انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہمیں پتہ چلا کہ مراح نے القاعدہ سے کس طرح تربیت لی۔ ہمیں ان کے عزم کا پتہ چلا اور اس سے بہت سی باتیں سامنے آئیں‘۔

اسی بارے میں