پیرس: یرغمال بچے رہا، مسلح شخص گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صبح سات بجے پولیس کو مقامی سکول بلوایا گیا جہاں ایک مسلح شخص نے کچھ طلبہ اور والدین کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق پیرس کے مضافات میں ایک سکول میں بنائے گئے یرغمال بچوں کو پولیس نے رہا کروا لیا ہے اور مسلح شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔

فرانسیسی ریڈیو کے مطابق وٹری سو سین میں واقع ایک سکول میں منگل کی صبح ایک مسلح شخص نے پانچ سے دس بچوں اور تین والدین کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے سکول کو محاصرے میں لے کر کارروائی کی۔ ریڈیو کے مطابق مسلح شخص نے یرغمال بنائے گئے بچوں کو جلد ہی رہا کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق مسلح شخص کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب اس کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے تھے۔ اس شخص کی عمر تیس سال ہے اور اس سے پہلے اس کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران مسلح شخص کی گفتگو بےربط تھی اور اس نے مرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ تاہم اس نے کسی موقع پر یرغمالیوں کو مارنے کی دھمکی نہیں دی۔

وٹری سو سین کا یہ سکول تعطیلات کے دوران غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فرانس میں اکثر سکول گرمیوں کی چھٹیوں میں مختلف غیر نصابی سر گرمیاں منعقد کرتے ہیں۔

پچھلے ماہ ایک چھبیس سالہ ذہنی معذور شخص نے کئی لوگوں کو فرانس کے شہر تولوز میں یرغمال بنا لیا تھا۔ پولیس کو اسے حراست میں لینے کے لیے گولی مارنی پڑی کیونکہ یہ القاعدہ کے رکن ہونے کا دعویٰ کر رہا تھا۔

تولوز ہی میں اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں تئیس سالہ شخص محمد مراح کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ محمد مراح نے القاعدہ سے متاثر ہو کر تین فوجیوں، تین بچوں اور ایک ربی کو ایک سکول میں داخل ہو کر قتل کر دیا تھا۔

اسی بارے میں