مذاکرات کی بحالی، طالبان کی تردید

Image caption افغان طالبان کابل کے شمال میں ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر آرام کر رہے ہیں۔

افغانستان میں طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے خبروں کو غط اور ایسے کسی امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

صحافی احمد ولی مجیب کے مطابق افغان طالبان نے یہ ردعمل صدر حامد کرزئی کے اس بیان کے بعد جاری کیا ہے جس میں صدر کرزئی نے جاپان کے شہر کیوٹو میں ایک اجلاس کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ طالبان افغانستان میں بحالی امن کے لیے ان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہوگئے ہیں۔

کیوٹو میں افغانستان کی تعمیر نو کے لیے ہونے والی عالمی کانفرنس سے ایک ہفتے قبل کیوٹو میں ہونے والے اجلاس میں طالبان، حزب اسلامی اور افغان حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی تھی، جس کے بعد یہ خبریں آئیں کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ بات چیت چیت پر رضامند ہوگئے ہیں۔

صدر کرزئی کے اس دعوے کی تصدیق سابق طالبان رہنما اور جیش المسلمین کے سربراہ اکبر آغا نے افغان ٹیلی ویژن ’طلوع نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے رویے میں لچک پیدا ہوئی ہے۔

طالبان نے کیوٹو اجلاس میں اپنے نمائندوں کی شرکت کی تصدیق تو کی ہے مگر کسی کمیشن کا حصہ بننے یا افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے۔

طالبان کا موقف رہا ہے کہ افغانستان میں کرزئی حکومت فریق نہیں اصل فریق امریکہ اور طالبان ہیں۔

اسی بارے میں