’خاتون کے قتل میں طالبان ملوث نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’اس واقعے میں مقتولہ کے گھر والے اور رشتہ دار ملوث ہیں‘

افغان طالبان نے صوبہ پروان میں مجمع عام میں خاتون کے قتل کے واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں مقتولہ کے گھر والے اور رشتہ دار ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں ایک خاتون کو بدکاری کے الزام میں سزا دیتے ہوئے گولیاں مار کر ہلاک کرتے دکھایا گیا تھا۔ افغان حکام نے اس واقعے کا الزام طالبان پر عائد کیا تھا۔

اس الزام کو اس وقت تقویت ملی جب صوبہ پروان کے گورنر بصیر سالنگی نے واقعہ کا ذمہ دار طالبان کو قرار دیا۔ بصیر سالنگی کے مطابق طالبان نے یہ کارروائی علاقے میں اپنے اثر و رسوخ اور سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کی تھی۔

طالبان کو خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی بناء پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

صحافی احمد ولی مجیب کے مطابق بی بی سی کو بھیجے گئے ایک اعلامیے میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعے میں مقتولہ کے گھر والے اور رشتہ دار ملوث ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق مقتولہ کئی دنوں سے اپنے گھر سے غائب تھی اور جب خاندان والوں کو ملی تو اس پر بدکاری کا الزام عائد کیا گیا۔

ذبیح اللہ مجاہد کے بقول مقامی جرگے نے اسے موت کی سزا سنا دی اور سزا پر عمل درآمد اس عورت کے گھر والوں اور رشتہ داروں نے کیا۔

طالبان ترجمان کے مطابق کوئی طالب اس واقعے میں ملوث نہیں۔

افغانستان میں انسانی حقوق کے ادارے نے اس واقعے پر حکومت اور طالبان دونوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس مختصر ویڈیو میں متاثرہ خاتون کا سر ڈھکا ہوا ہے اور وہ زمین پر بیٹھی ہوئی ہے تبھی ایک شخص اسے گولی مارتا ہے اور دوسرے ہی لمحے وہ زمین پر بے دم پڑی دکھائی گئی ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ تقریباً سو سے زائد افراد وہاں موجود ہیں اور خاتون کی ہلاکت پر وہاں موجود بعض افراد تالیاں بھی بجاتے ہیں۔

اسی بارے میں