اسامہ بن لادن کے باورچی سوڈان واپس

گوانتانامو بے کے قیدیوں کی سماعت کا ایک اسکیچ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ابراہیم القوسی نے کہا تھا انہوں نے 1996 میں القاعدہ کی مدد کرنی شروع کی تھی

سوڈان میں حکام اور مقامی ریڈیو کے مطابق اسامہ بن لادن کے باورچی ابراہیم القوسی کیوبا میں واقع امریکی جیل گوانتاناموبے میں دس برس سے زیادہ کی قیدگزارنے کے بعد واپس اپنے آبائی ملک سوڈان آگئے ہیں۔

ابراہیم القوسی گوانتانامو بے سے ایک امریکی فوجی جہاز کے ذریعے سوڈان کے شہر خرطوم پہنچے ہیں۔ ابراہیم القوسی تقریباً دس برس سے زیادہ عرصے سے گوانتانامو بے کی جیل میں قید تھے۔

امریکہ میں سنہ دو ہزار ایک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کی کارروائی کے دوران ابراہیم القوسی کو اسی برس افغانستان سے حراست میں لیا گیا تھا۔

تقریباً پچاس سالہ ابراہیم القوسی کی جانب سے جولائی دوہزار دس میں اس بات کے اعتراف کے بعد کہ وہ افغانستان میں اسامہ بن لادن کے محافظوں میں سے ایک تھے اور انہوں نے اسامہ بن لادن کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری سے بچنے میں مدد کی تھی انہیں چودہ برس کی سزا سنائی گئی تھی۔

لیکن فروری دوہزار گیارہ میں امریکی فوج کے وکیلوں کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ان کی قید کو کم کر کے دو برس کر دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا اعتراف کسی سمجھوتے کے تحت کیا تھا جس کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سوڈان کے مقامی ریڈیو سٹیشن نے ابراہیم القوسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ گوانتانامو بے کی جیل میں انہوں نے مشکل وقت گزارا ہے اور ’انہیں بغیر کسی وجہ کے گوانتانامو کی جیل میں قید رکھا گیا۔‘

وہیں سوڈان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ابراہیم القوسی کی جہاز کی روانگی سے پہلے ’امریکی اور سوڈانی حکام کے درمیان کچھ بات چیت ہوئی ہے۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل فوجی ٹرائبیونل کے سامنے سماعت کے دوران اپنے اوپر لگے الزامات کا اعتراف کرتے ہوئے ابراہیم القوسی نے کہا تھا کہ انہوں نے سنہ 1996 میں القاعدہ کی مدد کرنی شروی کی تھی اور وہ اسامہ بن لادن کی مدد کے لیے جس وقت افغانستان گئے تھے اس وقت بن لادن افغانستان کے شہر جلال آباد میں مقیم تھے۔

اسی بارے میں