بوسنیا جنگی جرائم مقدمہ: ملادچ کی طبیعت خراب

راتکو ملادچ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بوسنیا کے سابق فوجی سربراہ راتکو ملادچ کو طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لیجایا گیا ہے جن پر ہیگ کی عدالت میں جنگی جرائم کے لیے مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

سابق یوگوسلاویہ کے لیے جنگی جرائم سے متعلق بین الاقوامی ٹرائبیونل کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ملادچ کو ’احتیاط ‘ کے طور پر ہسپتال لیجایا گیا ہے۔

جنرل ملادچ کے پر انسانیت کے خلاف اور جنگی جرائم کے لیے مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔70 سالہ سابق فوجی سربراہ ملادچ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ان الزامات کا تعلق 1992 اور 1995کی بوسنیائی جنگ سے ہے۔

ٹرائبیونل کے ترجمان نے بتایا کہ جنرل ملادچ نے کہا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے جس کے بعد ایک نرس نے ان کی جانچ کی اور انہیں ہسپتال لیجایا گیا۔

ترجمان کے مطابق اگر ان کی طبیعت ٹھیک رہی تو جمعہ کو کیس کی سماعت جاری رہے گی۔

ہیگ میں جاری اس مقدمے میں ابتداء سے ہی سابق جنرل کی صحت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے اور عدالت چاہے گی کہ اس مقدمے کے فیصلے سے پہلے ملادچ کی موت نہ ہو۔

اس مقدمے میں اسی ہفتے پہلے گواہ نے عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔

پیر کو 34 سالہ بوسنیائی مسلمان ایلودین پاسک نے پُر نم آنکھوں سے بتایا کہ کس طرح اس دوران وہ اپنے گاؤں سے جان بچا کر بھاگے تھے۔ پاسک نے بتایا کہ اُس وقت وہ ایک نوجوان لڑکے تھے اور فرار ہوتے وقت نومبر 1992 میں بوسنیائی سرب فوجیوں نے انہیں پکڑ لیا اور قید میں رکھا تاہم وہ قتلِ عام سے بچ کر بھاگ نکلے۔

ملادچ پر 1995 میں اقوامِ متحدہ کے جنگی جرائم سے متعلق ٹرائبیونل میں جنگی جرائم کے لیے مقدمہ درج کیا گیا اور گزشتہ برس مئی میں انہیں شمالی سربیا میں ایک فارم ہاؤس سے گرفتار کر کے ہیگ لایا گیا۔

اسی بارے میں