ہلاک ہونے والوں میں جنگجو بھی شامل: حزب مخالف

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حما میں ہلاک ہونے والے افراد میں جنگجو بھی شامل ہیں: حزب مخالف گروہ

شام کے حکومت مخالف گروہوں نے تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ روز شامی فوجوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے افراد میں ایک درجن فری سریا آرمی کے جنجگو شامل تھے۔

حکومت مخالف گروہوں نے ایک روز قبل الزام عائد کیا تھا کہ شامی فوجوں نے حما کے ایک گاؤں میں قتل عام کیا ہے جس میں دو سو کے قریب عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

حزب اختلاف کے دوگروہوں نے کہا ہے کہ ایک روز قبل شامی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں میں کم از کم درجن افراد کا تعلق فری سریا آرمی سے ہے۔

حکومت نے حزب مخالف گروہوں پر قتل عام کا الزام عائد کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ قتلِ عام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس شروع ہونےسے قبل شام میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے نمائندے کوفی عنان نے کہا ہے کہ انہیں قتل عام کی خبریں سن کر شدید دھچکا پہنچا ہے۔

اقوام متحدہ کے مبصرین نے شام میں شدید جنگ کی تصدیق کی ہے جس میں توپ خانے اور گن شپ ہیلی کاپٹر ہوئے ہیں۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشتگردوں نے شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

حزب اختلاف کی انقلابی کونسل کی قیادت کا کہنا ہے کہ شام کے صوبے حما میں مرنے والے زیادہ تر مرد تھے شام سے ملنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج باغیوں سے حما کے گاؤں کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو عراق میں شام کے سفیر نواف فارس نے منحرف ہو کر شامی حکومت کی مخالف قوتوں کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد شامی افواج نے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں باغی جنگجووں کے خلاف شیلنگ کی۔

شام سے ملنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حکومتی افواج باغیوں سے حما کے گاؤں کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے خلاف سخت پابندیاں لگانے کی دھمکی دے۔

شام کے معاملے پر سلامتی کونسل تقسیم کا شکار ہے۔ کونسل کے دو مستقل ارکان روس اور چین شامی صدر بشارالاسد کے خلاف سخت کارروائی کے حق میں نہیں، جبکہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس، شام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

صدر بشارالاسد کے مخالف ممالک کی قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر شام میں دس دن میں تشدد ختم نہ ہو تو پھر اس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں اپنے مبصر مشن کے مستقبل پر بات چیت کے لیے اجلاس کر رہی ہے اور یہ قرارداد اس مشن میں توسیع کی قرارداد کا حصہ ہوگی۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن کا مینڈیٹ آئندہ ہفتے کے آخر میں ختم ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں