حزب اسلامی افغانستان کی ابھرتی سیاسی قوت ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

افغانستان کی ایک اہم سیاسی جماعت حزب اسلامی نے آئندہ پارلیمانی اور صداراتی انتخابات میں بھر پور حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی پورے افغانستان میں اپنی تنظیم کو سیاسی بنیادوں پر منظم اور فعال کرنے پر توجہ مرکوز کردی ہے۔

حزب اسلامی کے موجودہ سربراہ اور کرزی حکومت کے وزیر عبدالھادی ارغندی وال نے کابل میں اپنے حامیوں کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا اعلان کیا۔

حزب اسلامی وہی جماعت ہے جس کی قیادت سابق افغان وزیر اعظم گل بدین حکمت یار کے پاس ہے، عبدالھادی ارغندی وال اسی جماعت کے نمائندہ ہیں جنہوں نے افغانستان پر امریکی حملے اور طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد حکمت یار سے علیحدگی اختیار کی اور حزب اسلا می کے نام سے ہی جنگ زدہ ملک میں سیاسی سرگرمیاں شروع کیں۔

افغان حکومت نے حزب اسلامی کو سنہ دو ہزار آٹھ میں سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ کرلیا تھا جس کے بعد سے وہ ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

حکمت یار کی قیادت میں کام کرنے والی حزب اسلامی ایک جانب کرزئی انتظامیہ اور امریکیوں سے کئی بار مذاکرات کر چکی ہے دوسری جانب وہ کئی صوبوں میں مسلح جدوجہد بھی کر رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حزب اسلامی طالبان کا زور توڑنے کے لیے قومی لشکر کے ذریعے بھی طالبان کے خلاف بنرد آزما ہے۔

صوبہ غزنی کے ضلع اندھڑ میں جاری عوامی شورش کے بارے میں بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ وہاں طالبان کے سخت گیر رویے اور دیگر عوامل کی بناء پر عوامی سطح پر طالبان کے لیے سخت مشکلات پیدا کیں اور حزب اسلامی کو پزیرائی ملی ہے۔

حکومت میں شامل حزب اسلامی کو اگر دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ افغانستان کی موجودہ پارلیمان میں سب سے زیادہ انفرادی نشتیں رکھنے والی جماعت ہے جن کی تعداد چالیس ہے جبکہ دیگر جماعتوں نے اتحاد بناکر الیکشن لڑا۔

ایک سابق طالبان رہنما نے بی بی سی کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتا یا کہ عبد الھادی کی قیادت میں سرگرم حزب اسلامی نے افغانستان میں خود کو سیاسی طور پر بہت مضبوط بنا لیا ہے۔

افغانستا ن کے ان صوبوں میں جہا ں حکومتی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے وہاں حزب اسلامی نے خود کو سیاسی طور پر مستحکم کیا ہے۔

طالبان رہنما کے مطابق ملا عمر اور ان کے ساتھی افغانستان کے سیاسی عمل سے باہر ہیں اور اس خلا کو حزب اسلامی تیزی سے پر کر رہی ہے۔

ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ طالبان کو عسکری طور پر کمزور کرنے کے لیے بھی حزب اسلامی مختلف صوبوں میں سرگرم ہوچکی ہے جہاں ان کو حکومتی حمایت حاصل ہے۔

عبدالھادی کی قیادت میں حزب اسلامی افغانستان میں آنے والے دنوں میں کس قدر کا میابی حاصل کرتی ہے اس کا انحصار اس جماعت کی سیاسی فعالیت اور حکمت یار کی قیادت میں جاری جنگی حکمت عملی کے نتائج پر ہوگا۔

اسی بارے میں